رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    سپریم کورٹ میں نہیں ہوسکی بحث ، سماعت چار ہفتے کے لئے ملتوی

    آئین کی بالادستی کو قائم رکھنا اور اس کا تحفظ کرنا حکومت اور عدالت کا کام ہے : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنارس کی گیان واپی مسجد، کاشی متھرا عید گاہ معاملہ کو لیکر سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل پٹیشن پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران عرضی گذار کے وکیل وشنو شنکر جین نے عدالت سے چارہفتوں کی مہلت طلب کی کیونکہ آج ان کے سینئر وکیل بحث کرنے کے لئے تیار نہیں تھے حالانکہ اس معاملہ میں بطور مداخلت کار جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے بحث کرنے کے لئے ملک کے مشہورممتاز اور سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیو دھون آج پوری تیاری کے ساتھ عدالت گئے تھے مگر بحث نہیں ہوسکی اورآئندہ کی سماعت چارہفتے کیلئے ملتوی ہوگئی۔

    چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڑے، جسٹس سبھاش ریڈی اور جسٹس اے ایس بوپنا نے ہندو پجاریوں کی تنظیم وشو بھدر پجاری پروہیت مہا سنگھ ودیگر کی جانب سے داخل پٹیشن جس میں انہوں 1991کے یہ مذہبی عبادت گاہ تحفظ کی قانونی یعنی کہ پلیس آف ورشپ ایکٹ کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا ہے پر سماعت سننے کے لئے تیار تھے لیکن عرض گذار کے وکیل نے بحث کرنے سے معذرت کرلی اور عدالت سے وقت طلب کیا جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی چار ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سیدارشدمدنی نے اس معاملہ پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آئین کی بالادستی کوقائم رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا حکومت اور عدالت کا کام ہے

    یہ بھی پڑھیں  اگلے پانچ سالوں میں 24 گھنٹے پانی دیں گے: اروند کیجریوال

    ہمیں امید ہے کہ قانون کی بالادستی قائم رہے گی،انہوں نے یہ بھی کہا کہ بابری مسجد مقدمہ فیصلہ میں پانچ ججوں کی آئینی بینچ نے پلیس آف ورشپ قانون کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے جس کے مطابق یہ قانون آئین ہند کی بنیادمضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت بھی کرتاہے، دوسرے اس قانون کی دفعہ ۴، عبادت گاہوں کی حیثیت کی تبدیلی کوروکتاہے اور شاید اسی لئے اب اس قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنچ کرنے کی کوشش کی گئی مولانا مدنی نے کہا کہ مذہبی عبادت گاہ تحفظ قانون لاکر حکومت نے یہ آئینی ذمہ داری لی ہے کہ وہ تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا تحفظ کریگی

    یہ بھی پڑھیں  عراق : احتجاجی مظاہروں میں 31 افراد کی ہلاکتوں پر عوام میں غم و غصہ

    اس قانون سازی کا ایک بڑامقصدیہ بھی تھا کہ اس کے ذریعہ سیکولرزم کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے،لیکن اس کے باوجود عدالت میں سادھوں ستنوں کی ایک تنظیم کے ذریعہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر سوال کھڑاکرنے کی کوشش ہوئی ہے۔اب اس قانون کی حفاظت کی آئینی ذمہ داری عدالت اور حکومت کی ہے۔ واضح رہے کہ پلیس آف ورشپ قانون 18 ستمبر 1991کو پاس کیا گیا تھا جس کے مطابق 1947 میں ملک آزاد ہونے کے وقت مذہبی مقامات کی جو صورتحال تھی اسے تبدیل نہیں کیاجاسکتا ہے،صرف بابری مسجد تنازعہ کو اس قانون سے باہر رکھا گیا تھا

    یہ بھی پڑھیں  دگ وجے نے بی جے پی حکومت پر کسا طنز

    کیونکہ یہ معاملہ پہلے سے ہی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت تھا۔پجاریوں کی جانب سے داخل کی گئی پٹیشن کی مخالفت کرنے کے لئے جمعیۃ علماء ہند نے سب سے پہلے مداخلت کار کی درخواست داخل کی ہے تاکہ عدالت سے یہ گذارش کی جاسکے کہ وہ سادھوؤں کی پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول ہی نہ کرے۔جمعیۃ علماء ہند قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کو مداخلت کار کی پٹیشن میں مدعی بنایا گیا ہے جس کا نمبر 54990/2020 ہے۔آج کی عدالتی کارروائی میں ڈاکٹر راجیو دھون کی معاونت کے لئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ شاہد ندیم،ایڈوکیٹ ایشوریہ سرکارو دیگر موجود تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  دگ وجے نے بی جے پی حکومت پر کسا طنز

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    دس مہینے بعد تعلیمی سرگرمی شروع ہونے سے بچوں کے چہروں پر لوٹی مسکراہٹ

    نئی دہلی: دس مہینے بعد دہلی کے اسکولوں میں محدود ہی سہی لیکن رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں۔ کل...

    دہلی فسادات معاملہ،متاثرین کی باز آبادکاری میں مصروف اقلیتی فلاحی کمیٹی

    میٹنگ میں جلد سے جلد زیر التوامعاملات کے نپٹارہ کی افسران کو ہدایت،کچھ معاملات میں دوبارہ سروے کرنے کی...

    بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی سے نہ صرف دہلی کے لوگ متاثر ہیں، بلکہ ملازمین بھی نالاں ہیں : سوربھ...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کے زیر...

    راجیندر نگر کے ایم ایل اے راگھو چڈھا نے سوامی دیانند سروودیا کنیا اسکول کا دورہ کیا

    لاک ڈاؤن کے بعد اسکول کھلنے کے بعد سکیورٹی کے تمام انتظامات کردیئے گئے ہیں، طلباء اساتذہ کو N95...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you