رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    خوا تین اور بچوں کیلئے کسی جہنم سے کم نہیں ’حراستی مراکز‘

    کئی بچے جاں بحق، حراستی مراکز کی حالت بدتر ،سخت ماحول بچوں کیلئے ناقابل برداشت ،بڑی تعداد میں بیماری اور قلت تغذیہ کے شکار ،بہت سے لوگوں کاسب کچھ لٹ گیا،کسی نے ماں کھوئی تو کسی نے باپ،خود کی جان کیلئے تڑپ رہے ہیں لوگ

    نئی دہل: این آر سی کی آخری فہرست 31 اگست کو جاری کی گئی ، اس فہرست میں 19؍ لاکھ 6657 ؍افراد کے نام شامل نہیں کیے گئے ہیں۔ ان لوگوں کیلئے جن کے نام این آر سی کی فہرست میں شامل نہیں ہے ، تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے ، وہ تین ماہ میں غیر ملکی ٹریبونل عدالت میں اپیل کرسکتے ہیں اور خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرسکتے ہیں۔معلومات کیلئے ہم آپ کو بتا دیں کہ آسام کے شہریوں کے ووٹر شناختی کارڈ دو طرح کے ہیں ، ایک عام ووٹر شناختی کارڈ ہے جبکہ دوسرے پرڈی لکھا ہوا ہے۔ ڈی کا مطلب ہے ڈیفالٹر۔ پچھلے کچھ سالوں میں ، آسام میں ڈی ووٹر شناختی کارڈرکھنے والے شہریوں کو حکومت نے بنائے گئے حراستی مرکز میں رکھا ہوا ہے۔ ان حراستی مراکز کی حالت بہت خراب ہے ، حراستی مرکز کا سخت ماحول بچے برداشت نہیں کرپاتے اور بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔
    بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں حراستی کیمپ کے متاثرین کی کچھ کہانیاں شائع کیں ہیں۔ ایسی ہی ایک متاثرہ شاہدہ بی بی ہیں ، جو آسام کے ضلع دھوبری کی رہنے والی ہیں۔ شاہدہ کا کہنا ہے کہ ان کے دو جڑواں بیٹے نذرول اور نوبزور تھے ، جب اسے ڈی ووٹر معاملے میں مئی 2011 میں آسام کے کوکرا جھار کے حراستی مرکز میں لے جایا گیا تھا ،بچے صرف 14 دن کے تھے۔شاہدہ کے مطابق ، جب انہیں حراستی کیمپ لے جایا جارہا تھا تو نذرل کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ شاہدہ بی بی کا کہنا ہے کہ جیل میں دوائیوں اور علاج معالجے کیلئے مناسب سہولت میسر نہیں تھیں ، جب نذرول کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوئی تو جیل کے حکام نے انہیں ایک بار ڈاکٹر کے سامنے دکھانے کیلئے گوہاٹی بھیج دیا۔ لیکن وہ وہاں رہ نہیں سکتی تھی لہذاحراستی کیمپ میں واپس آنا پڑا ، اس کی طبیعت یہاں بگڑتی رہی اور کچھ ہفتوں کے بعد اس نے اس دنیا کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیا۔
    شاہدہ بی بی کو مارچ 2012 میں آسام ہائی کورٹ نے ڈی ووٹر معاملے میں بری کردیا تھا لیکن اس سال 31 ؍اگست کو شائع ہونے والی این آر سی کی فہرست میں شاہدہ بی بی کا نام نہیں ہے۔ شاہدہ کے دوسرے بیٹے نوبزور نے حراستی مرکز میں اپنی والدہ کے ساتھ قریب ایک سال گزارا ہے۔شاہدہ کے شوہر کی بھی دو سال قبل موت ہوگئی تھی ، اب ایسا لگتا ہے کہ شاہدہ کے سامنے خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرنا ایک پہاڑ ہے۔ شاہدہ بی بی کے مطابق ان کے شوہر نے ہندوستانی شہری ثابت کرنے کیلئے مقدمہ لڑنے کیلئے تمام زمین بیچ دی ، اب ان کے پاس پیسہ نہیں ہے۔
    انارا نامی ایک خاتون اپنی چھ سالہ معذور بیٹی کے ساتھ بکسہ ضلع کے گووردھانہ گاؤں میں رہ رہی ہے۔ انارا کے شوہر ڈی ووٹر کے معاملے میں پچھلے تین سالوں سے آسام کے گوال پارہ حراستی مرکز میں بندہیں۔ اناراکی بے بسی کو سمجھنے کیلئے یہ کافی ہے کہ اسے اپنی چھ سالہ بچی کے علاج کیلئے دس ہزار بھی میسر نہیں ہے۔ مزید بوڑھی ساس اور سسر کے ساتھ گھر کی ذمہ داری انارا کے سامنے ہر روز ایک نئے چیلنج کی طرح ہے۔ 31 ؍اگست کو آئی این آر سی کی فہرست میں اس خاندان کے کسی فرد کا نام شامل نہیں ہے۔جب وہ کہتی ہے ، “میں مزدوری کرکے ان کو

    یہ بھی پڑھیں  لکھنؤ گیسٹ ہاؤس تنازعہ ،ختم ہوئی ایس پی-بی ایس پی کی سیاسی دشمنی
    یہ بھی پڑھیں  رام پور : مظاہرین پر شکنجہ ، نقصان کی تلافی کیلئے 28 لوگوں کو نوٹس

    کھلاؤں، وکیل کی فیس ادا کروںیا بیٹی کا آپریشن کرواؤں”؟ تب ان کے سوالات انسانی ضمیر کوجھنجھوڑ دیتے ہیں۔

    اناراکا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے انھیں بتایا تھا کہ اگر وہ دس ہزار روپے کا بندوبست کرتی ہے تو انکی بچی کا آپریشن ہوجائے گا تاکہ وہ پیروں کے ساتھ چل سکے۔ لیکن غربت اور ذمہ داری اسے خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرنا،اوپر سے دس ہزار روپے جمع کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔انارا کے سامنے دو سوالات ہیں جن کے جوابات ان کیلئے مشکل ہیں ، ایک سوال خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرنا ہے اور دوسرا سوال ان کی چھ سالہ بیٹی شاہینہ کا ہے جب وہ اناراسے پوچھتی ہیں کہ بابا کہاں ہیں ، تواناراکے پاس آنسو بہانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔انارا نے قبول کیا ہے کہ وہ ہار گئی ہے ، لہذا وہ واضح طور پر کہتی ہیں کہ ’’میں اب تھک چکی ہوں ، اور مجھ میںمزید لڑنے کی ہمت نہیں ہے۔‘‘اگر حکومت کل میرے پورے خاندان کو حراستی مرکز میں بند کردے تو ہم میں سے کوئی کچھ بھی نہیں کہے گا۔ آدمی ایک بار مر تا ہے ، بار بار نہیں‘‘۔
    حکومت ہند کے ذریعہ بنائے گئے چائلڈ لیبر قانون کے مطابق18 سال سے کم عمر کے بچے مزدوری نہیں کرسکتے ،لیکن سترہ سالہ محمد عصمت نے ایک ذہین طالب علم ہونے کے باوجود اسکول چھوڑ دیا ہے اور وہ اپنے کنبہ کو کھلانے کیلئے مزدور کی حیثیت سے کام کرتاہے۔ عصمت کا تعلق آسام کے ضلع درنگ کے گاؤں تیکراباری سے ہے۔ دراصل دو سال قبل عصمت کے والد مناف علی کو ڈی ووٹر معاملہ میں تیج پور حراستی مرکز میں بند کردیا گیا تھا۔ تب سے عصمت کی زندگی پوری طرح بدل چکی ہے ، اس کی پیٹھ پر اسکول کے تھیلے اور کتابوں کے بجائے ہاتھ میں ایک پھاؤڑا آگیا۔ اسکول چھوڑنے کے بعد ایک روز عصمت کا استاد ا س کے پاس آئے تو عصمت نے اپنے استاد سے کہا کہ اگر میں ایک دن کیلئے بھی کام نہ کروںتو اس دن ماں کو کھانا نہیں ملے گا،اس لئے مجھے اپنی تعلیم چھوڑنی پڑ گئی ۔ عصمت نے اپنی بے بسی کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس قانونی چارہ جوئی کیلئے رقم نہیں ہے اور نہ ہی والد سے ملنے کیلئے۔ بہت محنت کرکے میں اپنے کنبہ کے افراد کیلئے صرف کھا نے پینے کا انتظام کرپاتا ہوں۔ 17 سال کا یہ ’مزدور‘ مانتا ہے کہ جب سے بابا حراستی مرکز گئے سب کچھ بدل گیا ہے۔ عصمت بتاتا ہے کہ اب میں نے یہ بھی مان لیا ہے کہ یہ میری قسمت میں یہی لکھا ہے۔ستم ظریفی دیکھیے کہ آسام میں خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرنے کی یہ جدوجہد بچوں کے مستقبل کو اندھیروں میں لے جارہی ہے۔ دوسری طرف وہ خواتین جن کے گھر حراستی مرکز میں بند ہیں ، ان کے سامنے زندگی گزارنا اور خود کو ہندوستانی شہری ثابت کرنا کسی پہاڑ جیسے چیلنج سے کم نہیں ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  روڈ کراس کرتے ہوئے حادثے میں سبزی فروش کی موت

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  روڈ کراس کرتے ہوئے حادثے میں سبزی فروش کی موت

    Latest news

    ارجن سنگھ افواہیں پھیلارہے ہیں، میں مرنا پسند کروں گا مگر بی جے پی میں شامل نہیں ہوسکتا : سوگت رائے

    نئی دہلی : بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ کے ذریعہ ترنمول کانگریس کے پانچ ممبران پارلیمنٹ...

    کورونا کے بچاؤ کے لیے ہاتھ جوڑ کر التجا نہیں ماننے پر سختی : منیش سسودیا

    نئی دہلی : نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آج پتپڑ گنج میں مسک کی تقسیم اور معاشرتی فاصلے...

    دفتر اور عملہ کی کمی کی وجہ سے ، کمیشن کے صدر کبھی کبھی کانفرنس روم میں آکر بیٹھ جاتے ہیں: آتشی

    نئی دہلی : سینئر رہنما اور عام آدمی پارٹی کی ایم ایل اے آتشی نے کہا کہ مرکزی حکومت...

    کانگریس کی ‘خاموشی’ اور ‘گپکاراعلامیہ’ خاندانی اور تباہ کن سیاست کے لئے ‘اعلان مرگ’ ثابت ہوگا : مختار عباس نقوی

    کپوارہ: بی جے پی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ کانگریس کی 'خاموشی'...

    امانت اللہ خان تیسری مرتبہ وقف بورڈ کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب

    دہلی وقف بورڈ کے آفس میں ممبران اور بورڈ عملہ نے کیا شاندار استقبال،دہلی کی عوام اور وزیر اعلی...

    دہلی میں آئی سی یو بیڈ کی تھوڑی کمی ہے ، ہم ہر اسپتال کو جنگی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں اور آئی...

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج ڈی ڈی یو کا دورہ کیا اور وہاں کوویڈ کی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you