رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    متعصب میڈیا پر لگام کسنے کو لیکر ہماری قانونی جدوجہد مثبت نتیجہ آنے تک جاری رہے گی : مولانا ارشدمدنی

    نئی دہلی : مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار ،ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان نفرت کی دیوارکھڑی کرنے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں کے خلاف داخل کی گئی جمعیۃعلماء ہند کی عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ،ویڈوکانفرنسنگ کے ذریعہ ہوئی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا ودیگر دوججوں کے سامنے جمعیۃعلماء ہند کے وکیل آن ریکارڈ اعجاز مقبول ایڈوکیٹ نے مضبوطی سے اپنے دلائل رکھے اور کہا کہ تبلیغی مرکزکو بنیادبناکر پچھلے دنوںمیڈیا نے جس طرح اشتعال انگیز مہم شروع کی یہاں تک کہ اس کوشش میں صحافت کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کو بھی پامال کردیا گیا

    اس سے مسلمانوں کی نہ صرف یہ کہ سخت دلآزاری ہوئی ہے بلکہ ان کے خلاف پورے ملک میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک عام سے واقعہ کو میڈیا کے بڑے حلقے نے غیر معمولی واقعہ بناکر پیش کیا اور اس کے لئے جھوٹ کو بنیادبنایا گیا یہاں تک کہ کورونا وائرس کی وباء کو کورونا جہاد سے تعبیر کرکے یہ تاثردینے کی مجرمانہ کوشش کی گئی کہ ملک میں اس وباکو مسلمانوں نے پھیلایا ہے اس سے عوام کی اکثریت نہ صرف گمراہ ہوئی بلکہ عام مسلمانوں کو لوگ شک کی نظرسے دیکھنے لگے ،اپنی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے مسٹراعجازمقبول نے چیف جسٹس آف انڈیا اے ایس بوبڑے ، جسٹس ناگیشورراؤ اورجسٹس شانتانوگورا کے بینچ سے کہا کہ ان حالات میں ضروری ہوگیا ہے

    یہ بھی پڑھیں  مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند سے متعلق متنازعہ بیان پر چوطرفہ مذمتوں کا سلسلہ جاری

    کہ عدالت میڈیا کے لئے شرائط اور حدودطے کرے اور اسے آئندہ اس طرح کی اشتعال انگریزی سے روکے کیونکہ ایک ایسے وقت میں کہ لوگ ایک ساتھ مل کر کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے میں مصروف ہیں بے لگام میڈیا کا ایک بڑاطبقہ معاشرے میں انتشاروتفریق پید اکرکے لوگوں کو مذہبی طورپر تقسیم کرنے کی خطرناک سازشیں کررہا ہے اور اس کے لئے دھڑلے سے جھوٹی خبریں اور فرضی ویڈیوزکاسہارالیا جارہا ہے جو قانونی طورپر انتہائی قابل گرفت بات ہے ، انہوںنے یہ بھی کہا کہ صحافتی اصول کا تو یہ تقاضہ ہے کہ کوئی بھی خبر شائع یا نشرکرنے سے پہلے اس بات کی باضابطہ طورپر تصدیق کی جائے کہ آیا خبر میں جو کچھ کہا گیا ہے صحیح ہے یاغلط مگر میڈیا ایسانہیں کررہا ہے

    یہ بھی پڑھیں  مرکزی وزیر گری راج سنگھ کے ذریعہ دارالعلوم دیوبند سے متعلق متنازعہ بیان پر چوطرفہ مذمتوں کا سلسلہ جاری

    انہوں نے کہا کہ ہماراقانون یہ بھی کہتاہے کہ اس طرح کی کوئی خبر شائع یا نشرنہیں کی جانی چاہئے جس سے کسی شخص یا فرقہ کی بدنامی یا دل آزاری ہویا جس سے لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہوں ، مسٹراعجازمقبول نے عدالت کے سامنے 98اخبارات کے تراشے اور ویڈیوز بطورثبوت پیش کئے اور کہا کہ انڈیا ٹی وی ،زی نیوز، نیشن نیوز ،ری پبلک بھارت ،ری پبلک ٹی وی ،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینلوں نے کس طرح تبلیغی جماعت اور عام مسلمانوں کے خلاف عرصہ سے محاذ کھول رکھا ہے انہوںنے عدالت سے یہ بھی کہا کہ WHO، بی جے پی کے قومی صدر،وکلاء اورڈاکٹروں کی ٹیموں اور دوسرے کئی اہم اداروں نے میڈیا کی اس غیر ذمہ دارانہ اورخطرناک رپورٹنگ پر اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے

    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ مظاہرہ پر سپریم کورٹ میں سنوائی ملتوی

    اور انہیں متنبہ بھی کیا ہے مگر میڈیا نے بظاہر اپنا رویہ تبدیل نہیں کیا ہے ،انہوںنے عدالت سے یہ بھی کہا کہ جس طرح میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بندطریقہ سے اشتعال انگیز رپورٹنگ ہوئی ہے اس سے پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور غم وغصہ کااضافہ ہوا ہے یہاں تک کہ بعض جگہ اس وجہ سے ان پر حملہ بھی ہوئے ہیں مسٹر اعجاز مقبول نے عدالت کے سامنے 31صفحات پر مشتمل اپنی تحریری بحث بھی پیش کی ، ان کے دلائل سننے کے بعد عرضی کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے عدالت نے پریس کونسل آف انڈیا کو فریق بنانے کا حکم دیا اور سماعت دوہفتہ کے لئے ملتوی کردی ،واضح ہوکہ یہ عرضی جمعیۃعلماء ہند کی لیگل سیل کے سربراہ گلزاراحمد اعظمی نے داخل کی ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  جیلوں میں گنجائش سے 60؍ہزار قیدی زائد

    آج کی قانونی پیش رفت پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ متعصب میڈیا پر لگام کسنے کی ہماری قانونی جدوجہد مثبت نتیجہ آنے تک جاری رہے گی عدالت کے حکم کے مطابق پریس کونسل آف انڈیا کو بھی فریق بنایاجائے گا، انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد پریس کونسل آف انڈیا کاقیام اسی مقصدکیلئے عمل میں آیا تھا کہ اس کے ذریعہ اخبارات پر نظررکھی جائے گی ، مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ ہمارا شروع سے یہ اصول رہا ہے کہ اگر کوئی مسئلہ سیاسی طور حل نہیں ہوتاتو ہم اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے عدالت جاتے ہیں

    یہ بھی پڑھیں  شیئر بازار میں تیزی ، سنسیکس میں 409 پوائنٹس کا اضافہ

    اور ہمیں وہاں سے انصاف بھی ملتاہے اس معاملہ میں بھی ہمارے تمام ترمطالبوں اور گزارشات پر جب کوئی کاروائی نہیں ہوئی اورفرقہ پرست میڈیا نے اپنی فرقہ وارانہ رپورٹنگ کی روش ترک نہیں کی تو ہمیں عدالت کا رخ کرنے پر مجبورہونا پڑا ہم اپنی اس جدوجہد کو آخر آخر تک جاری رکھیںگے اور ہمیں امید ہے کہ دوسرے معاملوں کی طرح اس اہم معاملہ میں بھی ہمیں انصاف ملے گا کیونکہ یہ معاملہ محض مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے اتحاد اور قومی یکجہتی سے جڑاہوا معاملہ ہے ۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you