رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق قومی کمیشن میں صحیح نمائندگی کے لئے جمعیۃعلماء ہند کی پٹیشن داخل

    کمیشن کے ممبران کی تقرری میں جانبداری کا الزام، سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا کمیشن کے غیر جانبدارانہ کردار کو قانونی تحفظ فراہم کیا جانا ضروری: مولانا ارشدمدنی

    نئی دہلی : قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارے کے تحفظ اور اس میں اقلیتوں کی صحیح نمائندگی کے لیئے جمعیۃعلماء ہندنے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آئین ہندکے آرٹیکل 32 کے تحت جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی توسط سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ وجیہہ شفیق کے ذریعہ سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی تھی۔ جس پر آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی تین رکنی (جسٹس ناگیشور راؤ، جسٹس نوین سنہا اور جسٹس اندو ملہوترا)بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آئی اور معزز عدالت نے پٹیشن کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے اس پرجواب طلب کیاہے۔واضح ہوکہ سال 2004 میں نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن ایکٹ بنا یا گیا تھا

    جس کی دفعہ 3 کے تحت نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس کمیشن میں ایک چیئر پرسن اور تین ممبر ہوتے ہیں، کمیشن کا چیئر پرسن ریٹائرڈ جسٹس ہائی کورٹ ہوتا ہے جبکہ ممبران کے لئے اعلی تعلیم یافتہ اور اپنے سماج میں بااثر و معزز ہونا چاہئے۔ کمیشن کو سول کورٹ کے اختیارات دیئے گئے ہیں، کمیشن کی جانب سے کیئے گئے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی جاسکتی ہے۔جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے داخل پٹیشن میں کہاگیا ہے کہ کمیشن کا قیام اقلیتی تعلیمی اداروں کے تحفظ کے لئے پارلیمنٹ میں قانون بنا کر کیا گیا تھا۔

    یہ کوئی حکومتی ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہندوستانی عدالتی نظام کا ایک حصہ ہے۔کمیشن کے ممبران اور چیئر مین کی تقرری پہلے بھی حکومت کے ذریعہ ہوتی تھی، لیکن اب اس میں شفافیت نہیں برتی جارہی ہے بلکہ ایک طرح سے امتیازی رویہ اختیارکیا جارہا ہے اس کے پیش نظرجمعیۃعلماء ہند نے اپنی پٹیشن مین مطالبہ کیا ہے کہ کمیشن کے سربراہ اور ممبران کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دے تاکہ کمیشن میں شفافیت کو برقراررکھاجاسکے۔ پٹیشن میں مزیدکہاگیاہے کہ موجودہ پٹیشن داخل کرنے کا مقصد یہ ہیکہ کمیشن کے دو ممبران کی میعاد دسمبر 2020 کے پہلے ہفتہ میں ختم ہوگئی ہے

    یہ بھی پڑھیں  رندیپ سنگھ سرجے والا نے ہریانہ حکومت سے قانون بناکر برخاست ’پی ٹی آئی ٹیچروں‘ کو بحال کرنے کی مانگ کی

    جن کی میعاد میں مزید پانچ سال کی توسیع یا انہیں دوبارہ منتخب کیئے جانے کی حکومت ہند کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے۔ جن دو ممبران کو دوبارہ منتخب کیئے جانے کی کوشش کی جارہی ان میں ڈاکٹر بلجیت سنگھ مان اور ڈاکٹر ناہید عابدی ہیں جبکہ تیسرے ممبر ڈاکٹر جسپال سنگھ کی میعاد 2023 میں ختم ہوگی۔کمیشن کے موجودہ چیئرمین جسٹس نریندر کمار جین کی میعادبھی 2023 میں ختم ہوگی۔پٹیشن میں مزید کہاگیا ہیکہ چیئر پرسن اور ممبران کا انتخاب من مانے طریقے سے کیا گیا،

    یہ بھی پڑھیں  پرینکا نے کہا، جھوٹ کبھی نہیں جیت سکتا

    کمیشن کے قانون کے مطابق ان کا انتخاب عمل میں نہیں آیا تھا۔ تین ممبران میں سے دو سکھ ہیں اوردیگر اقلیتوں اور خاص طورپر مسلم کو نظرانداز کردیا گیاہے جبکہ آبادی کے لحاظ سے مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں اس لئے کمیشن میں ان کی نمائندگی سب سے زیادہ ہونی چاہئے۔پٹیشن میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ کمیشن کے قانون کے مطابق کمیشن کے ممبران کو قانون کی معلومات ہونا ضروری ہے جبکہ موجودہ تینوں ممبران میں سے کسی بھی ممبر کا تعلق قانون کے شعبہ سے نہیں ہے جبکہ حکومت نے انہیں دوسرے قابل لوگوں پر ترجیح دیتے ہوئے اپنی مرضی سے منتخب کرلیاہے جس کے خلاف پٹیشن داخل کی جارہی ہے تاکہ اگلی میعاد کے لیئے ممبران کا تقرر ان کی قابلیت اور کمیشن کی ضرورت کے مطابق ہو تاکہ کمیشن کے ذریعہ اقلیتوں کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہوسکیں۔

    یہ بھی پڑھیں  کانگریس صرف دکھاوے کے لئے احتجاج کررہی ہے : بھگونت مان

    جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران متعدد خودمختارحکومتی اداروں کو بے وقعت اور ناکارہ بنانے کی کوششیں ہوئی ہیں ان میں قلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق قومی کمیشن بھی شامل ہے، جس کی تشکیل 2004میں باقاعدہ طورپر ایک ایکٹ کے ذریعہ ہوئی تھی اس طرح کے ایک خودمختارقومی کمیشن کے قیام کا مقصداقلیتی تعلیمی اداروں کو چلانے میں آنے والی قانونی رکاوٹوں اور دوسری طرح کی دشواریوں کو دورکرنا تھا،

    انہوں نے کہاکہ اپنے قیام کے ابتدائی کئی سالوں کے دوران اس کمیشن کی کارکردگی بہت شانداررہی کئی اہم اقلیتی تعلیمی اداروں کے تعلق سے کمیشن نے غیر معمولی نوعیت کے فیصلے بھی کئے جن میں جامعہ کے اقلیتی کردارکی بحالی کا اہم فیصلہ بھی تھا مگر اب یہ کمیشن بھی دوسرے حکومتی اداروں کی طرح نہ صرف ایک دکھاوے کا ادارہ بن کررہ گیا ہے بلکہ اس کے ممبران کے تقرری میں بھی بڑی حدتک جانبداری برتی جارہی ہے اور اصول وضوابط کا بھی لحاظ نہیں رکھا جارہا ہے،

    مولانا مدنی نے کہا کہ یہ کمیشن اقلیتی تعلیمی اداروں سے متعلق ہے اور چونکہ مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے اور دوسری اقلیتوں کی آبادی کا تناسب مسلم آبادی کے مقابلہ بہت کم ہے اس لئے اصولی طورپر اس کمیشن کے قیام کے بعد سے کسی ریٹائرڈمسلم جج کو ہی کمیشن کا سربراہ بنایاجاتارہا لیکن مرکزمیں اقتدارکی تبدیلی کے بعد انتخاب کایہ اصولی پیمانہ یکسرتبدیل کردیا گیا اوریہ کہ ممبران کی تقرری میں بھی جانبداری سے کام لیاجانے لگاانہوں نے کہا کہ کمیشن کے سربراہ اور ممبران کا انتخاب پہلے بھی مرکزی حکومت کے ذریعہ ہوتاتھا

    یہ بھی پڑھیں  پرینکا نے کہا، جھوٹ کبھی نہیں جیت سکتا
    یہ بھی پڑھیں  ایس ایس بی کے جوان سال میں سو دن خاندان کے ساتھ گزار سکیں گے: امت شاہ

    مگر اب واقعہ یہ ہے کہ حکومت اپنی پسند کے لوگوں کی تقرری یا ان کی مدت کارمیں توسیع کررہی ہے ایسے میں یہ امید کس طرح کی جاسکتی ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے تعلق سے کسی معاملہ میں کارروائی کرتے اور فیصلہ سناتے وقت کمیشن غیرجانبداری کا مظاہرہ کرے گا، جمعیۃعلماء ہند نے اپنی پٹیشن میں یہ بھی کہا ہے کہ کمیشن کے ممبران کے انتخاب کے لئے سپریم کورٹ اپنی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دے تاکہ ممبروں کے انتخاب میں کسی طرح کی جانبداری کا امکان نہ پیداس ہو، مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ چونکہ مسلمان آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہے اس لئے کمیشن میں مسلم ممبران کی تعداد ایک سے زیادہ ہونی چاہئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اسی بات کو محسوس کرتے ہوئے اور کمیشن کے غیر جانبدارانہ کردارکو تحفظ فراہم کرانے کے لئے جمعیۃعلماء ہند نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے مولانا مدنی نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ جمعیۃعلماء ہند کی پٹیشن سپریم کورٹ نے سماعت کے لئے منظورکرلی ہے اور اس پر مرکزی حکومت سے جواب بھی طلب کیا ہے امید کی جانی چاہئے کہ معاملہ کی اہمیت کے پیش نظرعدالت جلد ہی اس پر کوئی مناسب فیصلہ بھی صادرکرے گی۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    دس مہینے بعد تعلیمی سرگرمی شروع ہونے سے بچوں کے چہروں پر لوٹی مسکراہٹ

    نئی دہلی: دس مہینے بعد دہلی کے اسکولوں میں محدود ہی سہی لیکن رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں۔ کل...

    دہلی فسادات معاملہ،متاثرین کی باز آبادکاری میں مصروف اقلیتی فلاحی کمیٹی

    میٹنگ میں جلد سے جلد زیر التوامعاملات کے نپٹارہ کی افسران کو ہدایت،کچھ معاملات میں دوبارہ سروے کرنے کی...

    بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی سے نہ صرف دہلی کے لوگ متاثر ہیں، بلکہ ملازمین بھی نالاں ہیں : سوربھ...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کے زیر...

    راجیندر نگر کے ایم ایل اے راگھو چڈھا نے سوامی دیانند سروودیا کنیا اسکول کا دورہ کیا

    لاک ڈاؤن کے بعد اسکول کھلنے کے بعد سکیورٹی کے تمام انتظامات کردیئے گئے ہیں، طلباء اساتذہ کو N95...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you