رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    لاک ڈاؤن سے درپیش خطرات 21 دن تک ملک گیر کرفیو پر اٹھتے ہوئے سوالات

    یوسف اجراڑوی
    یوسف اجراڑوی

    وزیراعظم نریندرمودی نے ابھی ابھی اگلے ۲۱ دنوں تک کے لیے پورے ملک میں کرفیو کا اعلان کردیاہے یہ ہونے ہی والا تھا جنتا کرفیو ایک دن کا ٹرائل تھا پھر اسے بڑھا، کر ۳۱ مارچ تک طویل کرنے کا اعلان کیاگیا پھر دو دن عوام اور ملک کے مختلف سماجی طبقات کی لیڈرشپ کا کرونا وائرس کے نام پر جائزہ لیاگیا جب سب کو ذہنی طورپر مجبور و محصور پایا گیا تو اب یہ ملک گیر کرفیو مزید بڑھا کر ۲۱ دنوں کے لیے مزید کرنے کا اعلان کیا جاچکاہے کرونا وائرس کے واسطے سے عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کیا ہیں وہ تو واضح نہیں لیکن یہاں یہ لاک ڈاؤن اب پوری طرح واضح ہوچکاہے

    جو لوگ یکطرفہ ۳۱ مارچ تک کے لیے بھی اس کی تائید کررہےتھے اب ان سے پوچھیے کہ دو دن کے راشن کا فاقہ پڑ رہا تھا اب ۲۱ دن کا راشن کہاں سے آئے؟ جو کروڑوں غریب اپنے بچوں کے لیے ایک بوتل دودھ اور ایک روٹی کے لیے ترس رہےتھے اب وہ بھوکوں نہیں مریں گے؟ تو کیا ہوگا؟ بیشمار جگہوں سے پولیس زیادتیوں کی خبریں آتی رہیں، ان کو انصاف کون دلائے گا؟ اس ملک میں بھکمری اور ظالمانہ سسٹم کے کرونا وائرس پہلے سے موجود ہیں، ان دونوں وائرس سے متاثر ہونے والوں کی نحوست اب کون اپنے سر لینے کے لیے تیار ہیں؟

    حکومت سے لیکر میڈیکل اداروں نے سب نے کہا تھا کہ یہ ۳۱ مارچ تک ہی رہےگا لیکن اگلے دو ہی دنوں میں، کرفیو کے ہی دوران یہ کرفیو ۲۱ دنوں کے لیے اچانک بڑھا دیا گیا… ؟

    یہ وہ آراء ہیں جن کا عالمی سطح پر اپنا وقر و اعتبار ہے جنہیں مودی کا یہ خطرناک، بغیر تیاری، بغیر انتظامات کے اچانک طویل لاک ڈاؤن سمجھ نہیں آرہا، یہ اور بات ہے کہ انڈین کرونائی موت کے وہم زدہ لوگ گلا پھاڑ کر اس کی تائید میں جٹے ہیں

    یہ بھی پڑھیں  مولانا محمود مدنی نے کہا ، 70؍ سالوں میں کشمیریوں کو سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے پہنچایا

    یہی وجہ تھی کہ ہم یک روزہ جنتا کرفیو کے بھی خلاف تھے اور ۳۱ مارچ تک لاک ڈاون کے بھی خلاف تھے
    لیکن کرونا زدہ حضرات کی نفسیات دیگر پہلووں پر سوچنے تیار ہی نہیں
    کرونائی ڈراونے لوگوں کی طاعت شعاری نے مزید کمک دی تو وزیراعظم صاحب نے ایک اور ہتھوڑا گھما دیا ہ
    اب میرا ماننا یہ ہیکہ
    کرونا وائرس کو یہ لوگ استعمال کررہےہیں یہ حکومت کی شاطر اندازی ہے، سیاستدانوں کا یہ لاک ڈاؤن نتایج اچھے نہیں لائے گا، اس کے پس پردہ میڈیکل اور رفاہی ہدف بھی ہے لیکن بہت کم، ملک کی ٹوٹی پھوٹی اکنامی سے بچنے، اپنی متعصبانہ پالیسیوں کے ليے راستے بنانے اور ملک میں پھیل رہی انارکی سے بچ نکلنے کے راستے بھی ہوسکتےہیں،

    یہ بھی پڑھیں  مولانا محمود مدنی نے کہا ، 70؍ سالوں میں کشمیریوں کو سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے پہنچایا

    ابھی دیکھیے آگے آگے کیا کیا احکامات آتے ہیں
    جب انسان موت کے وہمی ڈر میں مبتلاء ہوکر حریت پر سیاسی قید کو ترجیح دیتا ہے تو پھر ایسا ہی ہوتاہے………

    یہ جو کچھ حد سے زیادہ بھولے لوگ یہ سمجھ رہےہیں کہ موجودہ سرکار کا ایڈمنسٹریشن غذائی اجناس کی سپلائی میں مخلص رہےگا کیونکہ مودی جی نے کہا ہے ان کو ذرا بتائیے کہ چمکی بخار اور آکسیجن سپلائی کی کمی سے سینکڑوں معصوم معصوم بچے مرتے رہے لیکن سرکار پر فرق نہیں پڑا البته جاہلوں کی سرکار کے وزیر نے یہ ضرور کہا کہ اگست میں تو بچے مرتے ہی ہیں نیز، مسلسل عام دنوں میں اناج اور راشن کی کالا بازاری سے غریب انسان جوجھتا رہتاہے اب تو صرف رشوت خوروں کا ہی راج ہوگا، ان سے انسانیت کی توقع رکھیں؟ ان کے مطابق کرناٹک میں بھاجپا کی سرکار ہے، اور وہاں حکومت کے اس اعلامیہ کے غذائی اجناس فراہم رہیں گی، اس کے باوجود پولیس میڈیکل اور راشن کی دوکانیں بند کروا رہی ہے_ اسی لیے ہمارا یہی ماننا ہےکہ یہ فیصلہ پورے ملک میں ابتری اور افراتفری پھیلانے والا غیرسنجیدہ قدم ہے

    یہ بھی پڑھیں  واٹس اپ جاسوسی معاملہ : پرائیویسی اور ملک کی سلامتی سے کوئی سمجھوتہ نہیں : پرساد

    یاد رکھیے یہ طریقہ ہمارے ملک میں چل نہیں پائے گا حکومت کے پاس علاج کے لیے اگر ہسپتال نہیں ہے تو یومیہ مزدوروں کے لیے بھی غذا کا کوئی متبادل نہیں ہے، اور ایسے لاک ڈاؤن میں سوفیصد غذائی اجناس کی سپلائی انڈیا میں ایک جھوٹا سیاسی دعویٰ ہی ہوسکتاہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ایک آدھ ہفتے کا غلہ لوگوں کے پاس ہوگا اس کے بعد کہاں سے آئےگا؟

    جب غریب ٹھیلے والوں کی دوکانیں بند رہیں گی تو سپلائی کہاں سے مکمل ہوگی؟ چند دنوں کے لاک ڈاؤن کا حال یہ ہیکہ، رکشے، حمالی، اور مزدوری کرنے والے پکار رہےہیں کہ ہم بھوکوں مرجائیں گے اب ۲۱ دن میں ان غریبوں کا کیا ہوگا؟ متوسط اور غریب طبقہ یہاں کی اکثریتی آبادی ہے، پیٹ کے ستائے لوگ گھروں میں بھوکے بیٹھیں رہیں گے جنہیں چند گھنٹے ایک جگہ بیٹھے رہنے کی عادت نہیں انہیں ۲۰ ۔ ۲۰ دن پریشانی کے عالم میں بیٹھایا جائےگا، کتنا غیر فطری مطالبہ ہے یہ غیر فطری مطالبہ بڑے خلفشار کا سبب بھی ہوسکتا ہے

    یہ بھی پڑھیں  آسام شہریت معاملہ :نئے اسٹیٹ کوآرڈینیٹر تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج
    یہ بھی پڑھیں  ڈینگو سے لڑائی میں کجریوال کو دہلی کی آر ڈبلیو اے کی ملی حمایت

    دیگر یوروپین اور چائنیز ممالک جنہوں نے ملک گیر کرفیو لگایاہے انہوں نے سب سے پہلے اپنے ملک کے ایک ایک شہری کے لیے سہولیات فراہم کیں ہیں، لیکن جہاں سہولیات سے زیادہ سیاسی اہداف ہوں وہاں عوام کا کون سوچتا ہے؟ مسلمانوں میں بھی کچھ ہیں جو کرونا کے خوف سے کرونائی ہوکر اس کی یکطرفہ تائید کررہے،اس کے علاوہ لگژری لائف جینے والے، امیر لوگ، بھی کررہے، بالی ووڈ کے سیلیبریٹی لوگ سب سے زیادہ اچھل اچھل کر اس کی تائید کررہےہیں کیونکہ وی آئی پی لوگوں کا کچھ نہیں ہوناہے، بالی ووڈ اور دنیائے کھیل کی اچھل کود جو دہلی فسادات میں مسلمانوں کے قتل پر خاموش تھے وہ چیخ چیخ کر تائید کررہےہیں، کیونکہ مرے گا تو غریب ہی

    کرونا مرض ہے، اس سے بچنا لازمی ہے، اور دوسروں کو بچانے کے لیے وزارت صحت کی طبی رہنمائی فالو کرنا ضروری ہے… ہم خود کرونا کے چلتے ٹرانسپورٹ کی بندش، مساجد کے اجتماعات پر پابندی اور مزید کئی اقدامات کے مؤید ہیں، لیکن مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو یہ نئے مسائل کو جنم دےگا، ہندوستان جیسے ملک میں یہ بالکل غیرفطری قدم یے_ ہماری حکومت سنجیدہ نہیں ہے، وزیراعظم کتنے سنجیدہ ہیں کہ تالیاں، تھالیاں اور گھنٹیاں بجواتے ہیں، کورونا وائرس کے نام پر چائے والا ویسے ہی بیوقوف بنا رہا ہے، جیسے کالا دھن کے نام پر نوٹ بندی کرکے بیوقوف بنایا تھا_ ابھی زمینی حقائق سے بھی رشتہ ٹوٹ جائے گا، دور دراز کے صحرائی دیہاتوں کا کوئی کنکشن نہیں بچےگا، لیکن اگر مشیت ایزدی نے دوبارہ کھلی فضا عطاء کی تو دیکھیے گا، کیا پایا کیا کھویا؟

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    دہلی میں 5-ٹی پلان کو عمل میں لاکر جیتیں گے کورونا سے جنگ : اروند کیجریوال

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہمیں ہمیشہ سے کورونا کو شکست دینے...

    میڈیا کی متعصبانہ رپورٹنگ کے خلاف جمعیة علماء ہند سپریم کورٹ میں

    نئی دہلی:ملک کے بے لگام ٹی وی چینلوں پر قانونی لگام لگانے کی پہل جمعیةعلماءہند نے کردی گزشتہ روز...

    مرکزی حکومت نے 27 ہزار پی پی ای کٹس مختص کیں: اروند کیجریوال

    نئی دہلی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہم دہلی میں کسی کو بھوکا سونے نہیں...

    کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر بن کر ٹوٹ رہاہے : مولانا ارشد مدنی

    دیوبند: جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ کورونا وائرس پوری دنیا میں قہر...

    سات نئے کورونا کے مثبت معاملے ملنے سے مچا ہڑکمپ

    لکھنؤ:راجدھانی میں کورونا مثبت پائے گئے مریضوں کی تعداد میں کوئی بھی کمی نہیں آرہی ہے۔سات نئے معاملے سامنے...

    معـــاشرتی ، مــذہبی اور عــــلاقائی اختــلاف سے بالاتر ہوکر ہی کـــوویڈ 19 سےجیتی جاسکتی ہے جنـــــــگ : پروفیســــر احــــرار حســـــین

    نئی دہلی : سنٹر فار ڈسٹنس اینڈ اوپن لرننگ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ڈائریکٹر (اکیڈمک) پروفیسر احرار حسین نےکہاکہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you