رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    سیتاپور لوجہاد معاملہ ، ٹرائل کورٹ سے دو خواتین سمیت چھ ملزمین کی ضمانت منظور

    ہم ضمانت سے مطمئن نہیں ، مقدمہ خارج ہونا چاہئے تھا: مولانا سید ارشد مدنی

    نئی دہلی : اتر پردیش کے ضلع سیتاپور کے قصبہ تمبور کے لو جہاد معاملے میں گذشتہ چار ماہ سے جیل میں مقید 6 ملزمین جس میں دو خواتین بھی شامل ہیں کو آج ستیاپورکی ٹرائل کورٹ نے مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ ٹرائل عدالت کے جج بھگوان داس گپتا نے ملزمین جنتن ابراہیم، افسر جہاں اسرائیل، شمشاد، رفیق اسماعیل، جاوید شاکر علی اور محمد عاقب منصوری کی ضمانت منظورکرلی ہے، جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ رضوان، ایڈوکیٹ مجاہد احمد اور ایڈوکیٹ فرقان خان نے ملزمین کی ضمانت کے لئے عرضی داخل کی تھی۔

    دوران بحث ایڈوکیٹ رضوان اور ایڈوکیٹ فرقان خان نے عدالت کو بتایا تھا کہ پولس نے عرضی گذار ملزمین کو حراست میں لیکر آئین ہند کے ذریعہ دی گئی ان کی شخصی آزادی ختم کردی ہے اور اس معاملے میں پولس نے چارج شیٹ بھی داخل کردی ہے لہذا ملزمین کو فوراً ضمانت پر رہا کیا جائے۔وکلا نے عدالت کو بتایاکہ ملزمین کے خلاف 26 نومبر کو مقدمہ قائم کیا گیا جبکہ 28 نومبر 2020 کو اتر پردیش کے گورنر آنندی بین پٹیل نے ”غیر قانونی تبدیلی مذہب مانع آرڈیننس 2020“ Uttar Pradesh Prohibition of Unlawful Conversion of Religion Ordinance, 2020 پر دستخط کئے یعنی کہ اس مقدمہ پر غیر قانونی طور پر اس قانون کا اطلاق کیا گیا ہے جو غیر قانونی ہے جسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  جامعہ طالبہ کا سی اے اے خلاف مظاہرہ :شرپسند شخص نے چلائی گولی، طالب علم زخمی

    وکلاء نے عدالت کو مزید بتایا کہ لڑکی واپس آگئی ہے اور اس نے پولس کو دیئے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے جبراً مذہب تبدیل کرنے کے لئے اکسایا نہیں گیا ہے اور نہ ہی اسے اغوا کیا گیا تھا لہذا لڑکی کے بیان کی روشنی میں ملزمین کو فو راً جیل سے رہا کیا جانا چائے جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزمین کو مشروط ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے اس پر اپنے ردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ جس قانون کے تحت یہ گرفتاریاں ہوئی تھیں وہ ملک کے آئین کے رہنمااصولوں کے سراسرخلاف ہے

    اس لئے ہم ضمانت سے مطمئن نہیں ہیں بلکہ ضمانت کی جگہ انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ عدالت یہ مقدمہ خارج کردیتی مگر اس نے ایسا نہیں کیا، عدالتی نظام کی سست رفتاری پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پولس کسی بے گناہ کو ذاتی عنادیاتعصب کی بناپر گرفتارکرکے جیل بھیج دے تو اس کو بھی انصاف کے حصول میں مہینوں اورسالوں لگ جاتے ہیں، اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا مدنی نے کہا کہ اس معاملہ میں ملزم ٹہرائے گئے نوجوان کے پورے خاندان کو تعصب کی بنیادپر پولس نے گرفتارکرلیا تھا جن میں پردہ نشیں خواتین بھی شامل تھیں

    یہ بھی پڑھیں  رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف 8 کروڑ میں خریدی گئی ، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کی خریداری میں بدعنوانی ہوئی ہے: سنجے سنگھ
    یہ بھی پڑھیں  گھنیندر بھاردواج عام آدمی پارٹی دہلی پردیش کے ترجمان ہوں گے

    انصاف اورقانون کا تقاضہ تویہ تھا کہ اصل ملزم کو ہی پولس گرفتارکرتی مگر اس نے ریاستی حکومت کے دباؤمیں ان لوگوں کو ہی گرفتارکرلیا جن کا کوئی جرم نہیں تھا، سوال یہ ہے کہ پولس نے مذکورہ خاندان کے ساتھ جو توہین آمیزسلوک کیا اس کی تلافی کس طرح ہوگی؟ کیا یہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا معاملہ نہیں ہے؟کیا یہ معززعدالت کا فرض نہیں تھا کہ وہ پولس کو اس کے لئے سرزنش کرتی تاکہ آئندہ کے لئے یہ بات ایک نظیر بن جاتی اور پھر پولس کسی بے گناہ کو اس طرح ذیل کرنے کا حوصلہ نہ کرپاتی۔

    انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان کی رہائی کے احکامات تب جاری کئے جب لڑکی یہ بیان دے چکی ہے کہ اسے کسی نے نہیں بھگایا بلکہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اس تعصب پر مبنی آئین مخالف قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں قانونی جنگ لڑرہے ہیں، درمیان میں عدالتوں کے ذریعہ ریاستی سرکارکو نہ صرف لتاڑاگیا بلکہ اس سے حلف نامہ داخل کرنے کو بھی کہا گیا مگر اس کے باوجود تبدیلی مذہب روکنے والے اس آڈیننس پر اب ریاستی گورنرسے بھی دستخط کرالیا گیا ہے

    اب تک اس نئے قانون کے تحت جتنی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور خودریاستی حکومت نے عدالت کو جو اعدادوشمارپیش کئے ہیں اس کے مطابق ان گرفتاریوں میں 99فیصدمسلمان ہیں یہ بات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ قانون مسلم نوجوانوں کو ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی غرض سے ہی لایا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ چھ ملزمین جس میں دو خواتین بھی ہیں کی ضمانت منظور ہونے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ صدر جمعیۃ علماء ہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر لکھنوء ہائی کورٹ میں ملزمین کے خلاف قائم مقدمہ ختم کرنے کی پٹیشن داخل کی گئی ہے لیکن سنوائی میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ملزمین کی ضمانت پرر ہائی کی درخواست عدالت میں داخل کی گئی تھی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے انہیں راحت دی ہے۔ بقیہ ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی عرضداشت بھی داخل کی جارہی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  ہنر مند یونیورسٹی دہلی کی معیشت کو بہتر بنائے گی: منیش سسودیا
    یہ بھی پڑھیں  ہنر مند یونیورسٹی دہلی کی معیشت کو بہتر بنائے گی: منیش سسودیا

    واضح رہے کہ تمبورتھانہ میں شرویش کمارشکلانے اپنی انیس سالہ بیٹی کے کسی کے ساتھ بھاگ جانے کی ایف آئی آر26نومبر 2020کو درج کرائی تھی، پولس تفتیش کے دوران پتاچلاکہ جبرئیل نامی نوجوان سے اس کی دوستی تھی اور دونوں ساتھ میں بھاگے ہیں۔ مقامی تھانہ دارنے جبرئیل کے پورے خاندان کو ایف آئی آرمیں نامزدکردیا اور باری باری کنبہ کے تمام افرادبشمول دوخواتین کے گرفتارکرلیا تھا جن میں سے آج چھ کی ضمانت ہوچکی ہے۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    اردو اکادمی دہلی ، دہلی ای۔ لرننگ کورس جلد شروع کرے: منیش سسودیا

    اردو اکادمی، دہلی کی دہلی سیکریٹریٹ میں منعقدگورننگ کونسل کی میٹنگ میں کئی اہم تجاویز پیش نئی دہلی : اردو...

    عام آدمی پارٹی کے روہتاش نگر ودھان سبھا میں منعقدہ مظاہرے میں مقامی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا

    نئی دہلی : بی جے پی کی زیر اقتدار ایم سی ڈی میں بدعنوانی اور مودی حکومت کی ناکام...

    ہر فرد میں ایک دلی جذبہ ہے ،یہاں لوگ ادب سے محبت کرتے ہیں : عامر اصغر قریشی

    شہر ناندورا میں سہ ماہی تکمیل کے مدیر عامر اصغر قریشی کے اعزاز میں ادبی نشست ناندورا : بتاریخ 23...

    ایم سی ڈی بلڈر مافیا کے تعاون سے لیز پر دی گئی دکانوں کا سروے کررہی ہے اور عمارت کو خطرناک دکھا کر خالی...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کے زیر اقتدار نارتھ ایم سی ڈی کی طرف...

    اگلے تین دن تک مسلسل بارش کے امکانات ، تمام افسران دن میں 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے ، کسی بھی وقت ضرورت ہوسکتی...

    نئی دہلی : لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دہلی کے نکاسی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you