رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    سوشل میڈیا کمپنیاں شفاف انتخابی عمل کیلئے خطرہ قرار

    میونخ: کوفی عنان فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال امریکا کے ساتھ ساتھ تقریبا 80 ممالک میں انتخابات منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر غلط خبروں کے مواد کے پھیلاؤ سے انتخابات کے دوران ووٹروں کو باقاعدہ گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام ممالک کو انتخابات میں غیر ملکی دخل اندازی اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ سے محفوظ رکھنا ایک چیلنج ہوگا۔کوفی عنان فاؤنڈیشن کے ’ڈجیٹل دور میں الیکشن اور جمہوریت کے کمیشن‘ کی طرف سے جاری کردہ اس تازہ رپورٹ میں اس مسئلے کا حل فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین نے اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر توجہ مرکوز رکھی، کیونکہ وہاں انتخابی نتائج عموما تنازعات کا شکار رہتے ہیں، جس سے پرتشدد واقعات اور بدامنی پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔ یہ رپورٹ اس سال میونخ سکیورٹی کانفرنس (ایم ایس سی) میں پیش کی گئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں انتخابات میں ‘مینوپلیشن’ یعنی ووٹرز کو غلط معلومات کے ذریعے گمراہ کرنے کی اکثر نشاندہی نہیں ہو سکتی کیونکہ وہاں انتخابات کے لیے پہلے ہی وسائل کی کمی رہتی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  صوبائی حکومتوں اوروزات صحت کی گائیڈلائن کے مطابق نمازاداکی جائے

    اس رپورٹ کے مطابق مستقبل میں ایسے ممالک کے انتخابات میں منظم انداز میں نفرت آمیز مواد، غلط معلومات، بیرونی مداخلت اور داخلی ہیرا پھیری جیسے طریقے مرکزی کردار ادا کریں گے۔کیمبرج اینالیٹیکا: کینیا میں الیکشن سے بریگزٹ اور ٹرمپ تک ایسٹونیا کے سابق صدر ٹوماس ہینڈرک الیوس اس رپورٹ کے پیش کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ ان کے ملک کا شمار ڈجٹلائٹزڈ ترین ممالک میں ہوتا ہے اور وہ اس مسئلے کا سامنا کر چکے ہیں۔ سن 2007 میں ہیکرز کے ایک گروپ نے سرکاری اداروں، پارلیمنٹ، صدر، قومی وزرا، بینک اور میڈیا اداروں کو نشانہ بنا کر مفلوج کر دیا تھا۔ بعد ازاں سن 2009 میں روسی حکومت سے قریبی تعلقات رکھنے والی نوجوانوں کی تنظیم ’ناشی‘ کے ایک رکن نے ان سائبر حملوں کی ذمہ داری لی تھی۔ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں الیوس نے کہا کہ کیمبرج اینالیٹیکا نے نہ صرف سن 2016 میں بریگزٹ ریفرنڈم اور امریکی صدر ٹرمپ کے الیکشن میں کردار ادا کیا بلکہ افریقی ملک کینیا میں سن 2013 اور سن 2017 کے انتخابات میں بھی گڑ بڑ کی گئی تھی۔ الیوس کا کہنا ہے کہ جب کمپنی نے دیکھا کہ کینیا میں ان کے منصوبہ کامیاب ہو چکا ہے تو انہوں نے ٹرانس اٹلانٹک تناظر میں اسی طرح کے حربے استعمال کرنا شروع کردیے۔کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل اس بارے میں تھا کہ فیس بک استعمال کرنے والے قریب 87 ملین افراد کا ڈیٹا کیمبرج اینالیٹیکا کے پاس پہنچ گیا تھا، اور اسے بلا اجازت 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن امیدوار (اب امریکی صدر) ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مہم کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔سیاستدانوں اور قانون سازوں کے لیے ایک چیلنج انتخابات کو منصفانہ اور غیرجانبدارانہ رکھنے کے لیے کوفی عنان فاؤنڈیشن کی رپورٹ میں 13 تجاویز پیش کی گئیں۔

    یہ بھی پڑھیں  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو امیرشریعت بنانے کا مطالبہ
    یہ بھی پڑھیں  مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو امیرشریعت بنانے کا مطالبہ

    ان میں ایک تجویز یہ ہے کہ انتخابی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں سے درخواست کی جائے کہ وہ جعلی خبریں اور مواد پھیلانے والی مہم کے طریقوں سے گریز کریں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا کہ قانون سازوں کو واضح طور پر خاکہ پیش کرنا ہوگا کہ انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کی تشہیری مہم کس حد تک قابل قبول ہے۔اس رپورٹ میں قانون ساز اداروں سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس بارے میں جامع اعداد و شمار پیش کرنے پر پابند کریں کہ کس سیاسی جماعت نے سیاسی اشتہارات کے لیے رقم ادا کی۔ اس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے دیو ہیکل ادارے تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو ڈیٹا فراہم کر کے شفافیت کو بہتر بنانا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے صارفین کو یہ موقع فراہم کریں کہ وہ الگورتھم یا پھر خودساختہ طور پر دکھائے گئے ہر قسم کے سیاسی اشتہارات کو بنیادی طور پر مسترد کر سکیں۔امید کی کرن اس حوالے سے فیس بک کے سابق چیف سکیورٹی آفیسر الیکس اشٹاموس جو کہ اس رپورٹ کے مصنفین میں شامل ہیں، ایک مثبت مثال بھی پیش کی۔ اشٹاموس نے بتایا کہ سن 2017 میں جرمنی کے پارلیمانی انتخابات کے دوران فیس بک کی جانب سے جرمن حکام کے ساتھ مل کر ایسے ہزاروں فیک اکاؤنٹس بند کیے گئے جو باقاعدہ طور پر جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ میں ملوث تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  تمام نجی اسکولوں کو وزیر اعلی نے بنایا ڈینگو مہم کا حصہ

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  روڈ کراس کرتے ہوئے حادثے میں سبزی فروش کی موت

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you