رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    کل صبح آٹھ بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہوگی ، لیڈران کے ساتھ ساتھ عوام کی بھی دھڑکنیں ہونگی تیز

    پٹنہ : بہار اسمبلی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی کل صبح آٹھ بجے سے شروع ہوگی تب صرف لیڈران کی ہی نہیں بلکہ عوام کی بھی دھڑکنیں تیز ہوںگی ۔

    243 رکنی بہار اسمبلی کے لئے تین مراحل میں ہوئے انتخاب کے بعد مسٹر نتیش کمار یا مسٹر تیجسوی پرساد یادو میں سے کس کی حکومت بنے گی اس کا انتظار صرف لیڈران کو ہی نہیں بلکہ ریاست کی عوام بھی بے صبری سے کررہی ہے ۔ اسمبلی کے ساتھ ہی والمیکی نگر پارلیمانی ضمنی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی بھی کل ہی ہوگی ۔

    چیف الیکشن افسر ایچ آر شری نیواس نے سموار کو یہاں بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کیلئے سبھی ضروری تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ریاست کے سبھی 38 اضلاع میں بنائے گئے 55 رائے شمار ی مراکز پر کل صبح آٹھ بجے سے ووٹنگ کی گنتی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ سب سے پہلے بیلٹ پیپر سے ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کی جائے گی ۔ اس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین ( ای وی ایم ) کے ووٹوں کی گنتی کی شروعات ہوگی ۔

    رائے شمار سے منسلک افسران کے مطابق ، ای وی ایم سے ایک راؤنڈ کی گنتی کرنے میں 15 سے 20 منٹ کا وقت لگے گا اس لئے پہلا رجحان صبح قریب ساڑھے آٹھ بجے آنے کا امکان ہے ۔

    عالمی وبا کووڈ۔19 کی وجہ سے حتیاطا ً زیادہ سے زیادہ ایک ہزار ووٹر کیلئے ایک ووٹنگ مرکز بنائے گئے تھے ۔ اس طرح ووٹنگ مراکز کے بڑھنے سے ای وی ایم مشینوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہواہے ۔

    اس کے ساتھ ہی کورونا کے مد نظر ووٹوںکی گنتی کے کام میں بھی سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل کیاجارہا ہے ۔ انتخابی کمیشن کی ہدایت کے مطابق ، ایک ہال میں سات ٹیبل پر ہی گنتی کی جائے گی ۔ ساتھ ہی دوسرے قریب کے ہال میں سات دیگر ٹیبل پر گنتی ہوگی ۔ پہلے ایک ہی ہال میں 14 ٹیبل لگتے تھے لیکن کورونا کی وجہ سے دو ہال میں سات۔ سات ٹیبل رکھے جائیںگے ۔

    یہ بھی پڑھیں  میگما فاؤنڈیشن غریبوں کی صحت کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ 2021 کوخوش آمدید کہنے کے لئے تیار

    مین ہال میں الیکشن افسر اور دوسرے ہال میں اسسٹنٹ الیکشن افسر تعینات رہیںگے ۔ ان کے علاوہ ہر ایک مرکز پر مائیکرو آبزرور بھی تعینات رہیںگے ۔

    ذرائع کے مطابق ، اس بار ای وی ایم کی تعداد میں 40 فیصد کا اضافہ ہواہے ۔ اس وجہ سے انتخابی نتائج آنے میں پہلے کے مقابلے تاخیر ہوگی ۔ پہلے دوپہر تک پہلا انتخابی نتیجہ آجاتا تھا لیکن اس بار رات تک آنے کا امکان ہے ۔

    اس بار کے اسمبلی انتخاب میں مہا گٹھ بندھن کے سب سے بڑے حلیف اور اہم اپوزیشن راشٹریہ جنتادل ( آرجے ڈی ) سب سے زیادہ 144 سیٹوں پر انتخاب لڑاہے ۔ وہیں اس کی معاون کانگریس نے 70 ، سی پی آئی ۔ ایم ایل نے 19 ،سی پی آئی نے 6 اور سی پی آئی۔ ایم نے چار امیدوار اتارے ہیں۔ اسی طرح قومی جمہوری اتحاد ( این ڈی اے ) کی حلیف جنتادل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو ) کے کھاتے میں 122 سیٹیں گئیں اور اس نے اپنے کوٹے سے سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی کی پارٹی ہندوستانی عوام مورچہ ( ہم ) کو سات سیٹیں دی۔ اس طرح جے ڈی یو نے 115 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  جمعیۃعلماء ہند نے غیر ملکی جماعت کا ڈاٹا جاری کرتے ہوئے فرقہ پرست میڈیا کو دکھایا آئینہ

    اسی طرح این ڈی اے کی حلیف بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) کو بھی 121 سیٹیں ملیں اور اس نے اپنے کوٹے سے 11 سیٹیں دیگر حلیف ویکاس شیل انسان پارٹی ( وی آئی پی ) کو دی ہیں۔ اس طرح بی جے پی کے 110 امیدواروں نے انتخاب لڑا ہے ۔ ان کے علاوہ این ڈی اے سے الگ لوک جن شکتی پارٹی ( ایل جے پی ) نے 135 ، راشٹریہ لوک سمتا پارٹی ( آر ایل ایس پی ) نے 99 ، این سی پی نے 81 ، بہوجن سماج پارٹی ( بی ایس پی ) نے 78 ، سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے ۔ اس بار 1301 آزاد امیدوار وںنے بھی قسمت آزمائی ہے ۔ اس طرح سال 2020 کے اسمبلی انتخاب میں تین مراحل میں 28 اکتوبر، تین نومبر اور سات نومبر کو ہوئی ووٹنگ میں کل 3733 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہے اور عوام نے کیا فیصلہ کیا ہے اس کا پتہ کل چل جائے گا۔

    یہ بھی پڑھیں  کردارکشی کیلئے منجیندر سنگھ سرسا عوامی طور پر معافی مانگیں :للوٹھیا

    گذشتہ اسمبلی انتخاب (سال2015) میں وزیراعلیٰ نتیش کمار این ڈی اے سے ناطہ توڑ کر آرجے ڈی اور کانگریس کے ساتھ مہا گٹھ بندھن بناکر انتخاب لڑا تھا۔ اس انتخاب میں جے ڈی یو نے 101 سیٹوں پر انتخاب لڑا اور 71 سیٹوں پر جیت درج کی ۔ اسی طرح آرجے ڈی نے 101 امیدوار کھڑے کئے جن میں سے 80 کامیاب ہوئے اور کانگریس نے 41 سیٹوں پر انتخاب لڑکر 27 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ وہیں بی جے پی نے 157 اسمبلی حلقوںمیں اپنے امیدوار اتار ے اور ان میںسے 53 ہی کامیا ب ہوپائے تھے ۔ اور ایل جے پی 42 سیٹوں پر انتخاب لڑ کر محض دو سیٹیں ہی بچا پائی۔

    ان کے علاوہ بی ایس پی نے 228 ، سی پی آئی نے 98 ، سی پی ایم نے 43 ، این سی پی نے 41 سیٹوں پر انتخاب لڑا لیکن ان کے امیدوار وں کا کھا تہ بھی نہیں کھل پایا ۔ وہیں سی پی آئی ۔ ایم ایل نے 98 اسمبلی حلقوںمیں انتخاب لڑا اور اس کے تین امیدوار کامیاب ہوئے ۔

    بی ایل ایس پی نے بھی 23 امیدوارکھڑے کئے لیکن اسے دو سیٹوں پر کامیابی ملل سکی ۔ 1150 آزاد امیدواروں میں سے چار کامیاب ہوئے تھے ۔ اس طرح گذشتہ انتخاب میں کل 3693 امیدواروں کھڑے تھے ۔
    اس بار جن قدآوروں کی قسمت کا فیصلہ کل ہونا ہے ان میں اسمبلی اسپیکر وجے کمار چودھری ، سابق وزیراعلیٰ جیتن رام مانجھی ، سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی پرساد یادو ، ان کے بڑے بھائی اور سابق وزیر صحت تیج پڑتاپ یادو ، نتیش حکومت کے وزیر سڑک تعمیرات نند کشور یادو ، دیہی ترقیات کے وزیر شرون کمار ، لیبر وسائل کے وزیر وجے کمار سنہا ، دیہی ورکس کے وزیر شیلندر کمار ، سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر جے کمار سنگھ ، کان کنی کے وزیر برج کشور بند ، نقل وحمل کے وزیر سنتوش کمار نرالہ ، محصولات کے وزیر رام نارائن منڈل ، وزیرتعلیم کرشن نندن پرساد ورما ، سماجی فلاح کے وزیر رام سیوک سنگھ ، وزیر توانائی بجندر پرساد یادو ، وزیر قانون نریندر نارائن یادو ، درج فہرست ذات ۔ قبائل فلاح کے وزیر رمیش رشی دیو ، منصوبہ اور ترقیات کے وزیر مہیشور ہزاری ، شہری ترقیات کے وزیر سریش شرما قابل ذکر ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم نےعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہونے والی اموات پر لیا نوٹس ، ضروری اقدامات کا دلایا بھروسہ
    یہ بھی پڑھیں  بی جے پی ہیڈ کوارٹرز پر احتجاج کرنے جارہے کارکنوں کو بیریکیڈ لگا کر پولیس نے روکا

    ان کے علاوہ وزیر خورشید عرف فیروز احمد ، لکشمیشور رائے ، بیما بھارتی ، مدن سہنی ، پرمود کمار ، ونود نارائن جھا ، کرشن کمار رشی ، آنجہانی ونود سنگھ کی اہلیہ نشا سنگھ ، آنجہانی کپل دیو کامت کی بہو مینا کامت ، مسٹر لالو یادو کے سمدجھی چندریکا رائے ، کانگریس لیڈر شتروگھن سنہا کے بیٹے لوسنہا ، آرجے جنرل سکریٹر اور سابق وزیر آلوک کمار مہتا ، سابق رکن پارلیمنٹ لولی آنند ، سابق رکن پارلیمنٹ راما سنگھ کی اہلیہ بینا سنگھ ، اپوزیشن کے قد آور لیڈر عبد الباری صدیقی ، اور رمئی رام ، جن ادھیکار پارٹی سپریمو پپو یادو ، ویکاس شیل انسان پارٹی ( وی آئی پی ) کے قومی صدر مکیش سہنی جیسے قدو آرووں کا فیصلہ بھی کل ہوجائے گا۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    ہمیں بی جے پی حکومتوں کے جبر کے خلاف ہر محاذ پر لڑنا ہوگا : عمران پرتاپ گڑھی

    آسام: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے ایک روزہ دورے پر آسام...

    پرینکا سچی کانگریسی ہیں اور ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیری متاثرہ کنبوں کے ارکان سے ملنے...

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران...

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ''ایک نئی پہل'' کے عنوان...

    وزیر نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کا معائنہ کیا اور ذات کے سرٹیفکیٹ میں تاخیر پر افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی وارننگ دی...

    سماجی بہبود کے وزیر راجیندر پال گوتم نے اچانک معائنہ کیا اور ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر...

    کیجریوال حکومت اور بی جی پی حکومت رابعہ سیفی کو اِنصاف دلائے : عمران پرتاپ گھڑی

    مرادآباد : آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبۂ اقلیتی کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے دو روزہ دورے کے...

    اقلیتی شعبہ کے قومی صدراور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی کا شایان شان خیرمقدم

    اہم ذمہ داری ملنے کے بعد پہلی بار مرادآباد آمد پر پھولوں کی بارش،عوام کا اژدہام مرادآباد: کانگریس اقلیتی شعبہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you