رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    ملک میں نفرت انگیزی میں خطرناک سطح پر اضافہ

    نئی دہلی : ماب لنچنگ اور گائے کے نام پر ہجومی تشدد کے واقعات میں رواں برس خطرناک سطح پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔یہ پر تشدد واقعات ملک کی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور دلتوںکے ساتھ پیش آئے ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کی ویب سائٹ ‘ہالٹ دی ہیٹ’ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ نے تحریر کیا ہے کہ 2016 سے نفرت انگیزی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا جو رواں برس کے ابتدائی 6 ماہ میں بدترین حد تک پہنچ گئی ہے۔

    ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2019 کے ابتدائی 6 ماہ میں 181 مبینہ نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جو گزشتہ تین برس کے اس دورانیے سے دوگنا ہے۔رواں برس کے ابتدائی 6 ماہ کی رپورٹ میں صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ستمبر 2015 سے جون 2019 تک ہالٹ دی ہیٹ نے مجموعی طور پر 902 واقعات ریکارڈ کیے جن میں 661واقعات ذات پات کی بنیاد پر تشدد کے پیش آئے اور دوسرے 113واقعات گائے کے نام پر پیش آئے ۔

    یہ بھی پڑھیں  کووڈ -19 وبا کے پیش نظر سی ایس کے امتحانات کے لیے ملک بھر میں 45 نئے مراکز کھولنے کا کیا فیصلہ

    ان واقعات میں سے 37 ہلاکتیں بھی ہوئیں۔دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2019 کے دوران دو تہائی واقعات دلتوں کے ساتھ پیش آئے اور دوسرے نمبر پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے 40 واقعات ریکارڈ ہوئے، آدیواسی 12، عیسائی 4 اور جنسی تفریق پر 6 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ گائے اور غیرت کے نام پر قتل کے 17 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    یہ بھی پڑھیں  کووڈ -19 وبا کے پیش نظر سی ایس کے امتحانات کے لیے ملک بھر میں 45 نئے مراکز کھولنے کا کیا فیصلہ

    ان پر تشدد واقعات میں سب سے زیادہ ایک چوتھائی واقعات اتر پردیش میں پیش آئے ہیں۔اس کے علاوہ تمل ناڈو میں 80،گجرات میں 79اور ہریانہ میں 61واقعات درج کئے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کئی افراد کو ان کی مخصوص شناخت پر نشانہ بنایا گیا، جن میں خواتین نے خود کو دلت، مسلمان، عیسائی یا کسی جنس کے حوالے سے شناخت کرائی ان کو نشانہ بنانے کے 58 واقعات پیش آئے جن میں 30 خواتین کو یا تو ریپ کا نشانہ بنایا گیا یا جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

    یہ بھی پڑھیں  کنچن کنج روہنگیاپناہ گزیں کیمپ میں آتشزدگی، مولانا ارشدمدنی کی ہدایت پر راحت رسانی کام جاری

    ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کی ویب سائٹ ہالٹ دی ہیٹ 2015 میں لانچ کی گئی تھی جب اتر پردیش کے دادری میں اخلاق کا گائے کے گوشت رکھنے کے مبینہ الزام کے بعد ہجومی تشدد کے ذریعہ ہلاک کر دیا گیا تھاْ۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  کنچن کنج روہنگیاپناہ گزیں کیمپ میں آتشزدگی، مولانا ارشدمدنی کی ہدایت پر راحت رسانی کام جاری

    Latest news

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کی تعداد اور ان کے خلاف درج مقدمات کی کوئی معلومات نہیں ہے : مرکزی وزیر...

    نئی دہلی : مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے...

    ایم سی ڈی تبدیلی مہم کی تیاری 27 نومبر سے شروع، معلومات اپ لوڈ کرنے کے لیے خصوصی ایپ استعمال کریں گے: گوپال رائے

    نئی دہلی : آپ کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ ایم سی ڈی انتخابات کے پیش نظر،...

    بنگلورو پولیس نے منّور فاروقی کو متنازعہ شخص قرار دیا

    بنگلور: کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے ایک آڈیٹوریم میں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا ایک شو منعقد کیا...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you