رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    مولانا نذرالحفیظ ندوی کی وفات امت کے لیے ناقابل تلافی خسارہ

    لکھنؤ : مولانا نذرالحفیظ ندوی ازہری رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر آج دہلی میں انکے غمگساروں نے ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا۔ جس میں مولانا مرحوم کی ہمہ جہت شخصیت پر حاضرین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مولانا محمد مطلوب نے مولانا نذرالحفیظ صاحب کی زندگی پر مختصرا خاکہ کھینچا۔

    مولانا مرحوم انتہائی خاکسار اور قناعت پسند تھے تبھی انھوں نے بیرون ملک میں بڑی تنخواہ کی ملازمت چھوڑ کر تعلیم وتعلم کے لیے ندوۃ العلماء آئے اور تقریباً چار دہائیوں تک اپنے مادر علمی میں تدریسی خدمات انجام دیئے ان کلمات کا اظہار بریلینٹ ایجوکیشنل اینڈ شوسل ٹرسٹ کے چیئرمین حکیم محبوب عالم نے کیا۔
    مولانا کی شخصیت کے مختلف گوشوں پر اور مولانا کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے جناب عبدالوہاب صاحب نے کہا مولانا کا گھرانہ علمی اور دیندار تھا اور انکے علم سے فیضیاب ہونےکا شرف حاصل ہوا

    یہ بھی پڑھیں  گودی میڈیا پر لگام کسنے کےلئے جمعیةعلماءہند کی پٹیشن پر آج چیف جسٹس کی سربراہی والی تین رکنی بینچ سماعت کرے گی

    جناب راغب حسین شانی نے کہا کہ مولاناکی وفات سے ململ گاؤں پر یتیمی کا سایہ پڑ گیا ہے۔ وہ اپنے گاؤں کے سب سے بڑے سپوت تھے جن کی طرف منسوب کرکے ململ والے علمی حلقوں میں اپنا تعارف کراتے تھے۔ مولانا علم کے سمندر کے مانند تھے جہاں سے ہر کوئی علمی پیاس بجھاتا تھا ان باتوں کا اظہار مولانا مسرور عالم ندوی نے کیا۔ زوم پر مولانا مرحوم کے دونوں صاحبزادگان بھی براہ راست جڑے اور کہا کہ مولانا جہاں ایک مشفق والد اور استاد تھے وہیں وہ امت کے بے لوث خدمت گذار تھے۔

    یہ بھی پڑھیں  جامعہ ملیہ اسلامیہ نے منارہا ہے 99 واں یوم تاسیس

    مولانا اسد ندوی نے زوم پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مولانا موجودہ وقت میں ندوی افکار کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ زوم پر ہی مولانا نجیب الرحمن ندوی ململی نے مولانا مرحوم کی علمی و سماجی زندگی پر بیان کرتے ہوے کہا کہ مولانا کی وفات امت مسلمہ کے لیے ناقابل تلافی خسارہ ہے ۔ ڈاکٹر خورشید انور صاحب نے مولانا مرحوم کے ساتھ اپنے چالیس پچاس سالہ تعلقات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا کی شخصیت فانی فی اللہ تھی۔ صدارتی کلمات میں مولانا مفیض الرحمن ندوی نے کہا کہ مولانا جہاں عربی ادب کے بڑے استاد تھے وہیں وہ ایک کہنہ مشق صحافی بھی تھے جس کا ترجمان انکی مشہور زمانہ کتاب مغربی میڈیا اور اس کے اثرات ہے۔ مولانا کی حالات حاضرہ پر بڑی گہری نظر رہتی تھی خاص طور پر عرب دنیا اور مغربی ممالک کے موجودہ حالات پر گہری پکڑ رکھتے تھے۔ تقریبا دو گھنٹے تک پروگرام کا سلسلہ چلا اور آخر میں عبدالوہاب کی رقت آمیز دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

    یہ بھی پڑھیں  شمال مشرقی دہلی میں تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 9، حالات کشیدہ

    حاضرین میں جناب شعیب احمد۔ خالد عزیز۔ نجم الدین ندوی۔ سراج احمد ندوی۔مولانا مسعود عالم ندوی۔ناصر امام۔یاسر امام۔ابو نصر حسن۔ مولانا دانش بشیر ندوی۔ رئیس احمد ۔ جبکہ زوم پر شاہد جمال گڈو، خطیب الرحمن ندوی اور بڑی تعداد میں اندرون و بیرون ملک سے لوگ براہ راست جڑے۔ اور مولانا کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ اس پروگرام کا اہتمام بریلینٹ ایجوکیشنل اینڈ شوسل ٹرسٹ کی جانب سے دہلی کے جیت پور میں جناب نجم الدین ندوی کے دولت کدہ پر ہوا

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  گودی میڈیا پر لگام کسنے کےلئے جمعیةعلماءہند کی پٹیشن پر آج چیف جسٹس کی سربراہی والی تین رکنی بینچ سماعت کرے گی

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you