رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    کرناٹک میں سیلاب سے بے گھر ہوئے لوگوں کو بھی جمعیۃعلماء ہند نے فراہم کیا آشیانہ

    ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں سے نہیں مسلم تاجروں کے ذریعہ پہنچا ، ملک میں اقتدارکے لئے ہورہی ہے نفرت کی سیاست:مولانا ارشدمدنی

    نئی دہلی : ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں کے ذریعہ نہیں بلکہ عرب مسلم تاجروں کے ذریعہ پھیلا جن کے کرداروعمل کو دیکھ کرلوگ متاثرہوئے اورانہوں نے کسی ڈراورلالچ کے بغیر اسلام قبول کرلیا، جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج یہ بات کرناٹک میں میسورسے متصل ضلع گوڈاگوکے سداپور میں منعقد ایک اجتماع میں کہی، اس اجتماع میں آج مولانا مدنی کے ہاتھوں 2019 میں آئے تباہ کن سیلاب میں بے گھر ہوئے 30لوگوں میں سے 16لوگوں کو مکانات کی چابیاں دی گئیں ان میں غیر مسلم بھی شامل ہیں,مولانا مدنی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ بات سراسر بے بنیاداورتاریخی طورپر غلط ہے کہ ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں کے ساتھ آیا، ہندوستان میں مسلمان سودوسو سال سے نہیں بلکہ تیرہ سوسال سے آبادہیں، مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہندوستان اورعرب کے درمیان اسلام کی آمدسے پہلے سے تجارتی وکاروباری تعلقات رہے ہیں، البتہ اسلام کی آمدکے بعد کچھ مسلم تاجر عرب سے کشتیوں کے ذریعہ کیرالا پہنچے اور یہیں آبادہوگئے

    ان کے پاس کوئی فوج اور طاقت نہیں تھی بلکہ یہ ان کاکرداراور اخلاق ہی تھاجس سے متاثرہوکر یہاں کے مقامی لوگوں نے اسلام قبول کرلیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تاریخ کی کتابوں میں کیرالاکے ہی کچھ راجاؤں کا بھی ذکر ملتاہے، جنہوں نے اسلام قبول کیا ایک راجہ کے تعلق سے یہ ذکر بھی ہے کہ اس نے جب شق القمرکا معجزہ دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا اپنے دربارکے نجومیوں سے اس نے اس بابت دریافت کیا توانہوں نے جو کچھ بتایا اسے سن کر اس کے دل میں عرب جاکر آقاﷺ کی زیارت کرنے کی للک پید اہوئی، چنانچہ اس نے اپنی حکومت کو دوسروں کی نگرانی میں دیکر کشتی کے ذریعہ اپنے سفرکا آغازکیا لیکن راستہ میں ہی اس کی موت واقع ہوگئی، کیرالامیں ہندوستان کی سب سے پہلی مسجد اب بھی موجودہے، مولانا مدنی نے کہا کہ محمد بن قاسم کاواقعہ تو اس کے بہت بعد کا ہے

    یہ بھی پڑھیں  کناٹ پیلس کے سینٹرل پارک میں رنگ ونورکی بارش

    مولانامدنی نے کہا کہ سندھ میں راجہ داہر کی شکست کے بعد جن لوگوں نے محمد بن قاسم سے پناہ طلب کی انہیں پناہ دی گئیں، چنانچہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے مسلمانوں کے اس سلوک سے متاثرہوکر اسلام قبول کرلیا، اس کے لئے کسی طرح کی زورزبردستی کی گئی ہواس کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ہے اورپھر یہ بھی ہے کہ زورزبردستی کے ذریعہ کسی کو مسلمان نہیں کیا جاسکتا، مولانا مدنی نے آگے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اس ملک کی خصوصیت ہے کہ پچھلے تیرہ سوبرس سے یہاں ہندوومسلمان ایک دوسرے کے ساتھ محبت واخوت کے ساتھ رہتے آئے ہیں، لیکن اب کچھ لوگ محبت واتحادکے اس پختہ رشتے کو توڑدینا چاہتے ہیں، وہ نفرت اور غلط فہمیوں کو بڑھاوادے رہے ہیں ڈراور خوف کا ماحول پیداکرکے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف محاذآرائیاں کی جارہی ہیں

    یہ بھی پڑھیں  شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تشدد کی چنگاری ہاپوڑ میں بھی پہنچی
    یہ بھی پڑھیں  کھٹر دوسری بار بنیں گے ہریانہ کے وزیر اعلی

    اور اب حالات یہ ہیں کہ کشمیر سے لیکر کنیاکماری تک لوگ ڈراور خوف کے سایہ میں زندگی گزارنے پر مجبورہیں، ایسے لوگوں کو شاید یہ بات معلوم نہیں ہے کہ یہ ملک اتحاداور محبت سے ہی آبادرہ سکتاہے، اور اگر نفرت اور جنگ وجدال کی سیاست کی گئی توپھر یہ ملک تباہ ہوجائے گا، مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند پچھلے سوبرس سے ہندستان میں محبتیں بانٹنے کا کام کررہی ہے، وہ اپنا امدادی وفلاحی کام بھی مذہب سے اوپراٹھ کر انسانیت کی بنیادپر کرتی اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ آج جن بے سہارالوگوں کو کرناٹک کے مسلمانوں کے تعاون سے مکانات کی چابیاں دی گئی ہیں، ان میں غیر مسلم بھی شامل ہیں، انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اقتدارکے لئے نفرت کی سیاست کررہے ہیں اس کے لئے ہمیں عام لوگوں کو بیدارکرنا ہوگا ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ اس ملک میں صدیوں سے ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان جواتحاد قائم ہے اسے ٹوٹنے نہ دیں

    مسلمان ہندوؤں کی خوشی اورغمی میں شامل ہوں ہندوبھائی مسلمانوں کی خوشی اورغمی میں شامل ہوں اس سے ہی سماج اورمعاشرے میں یکجہتی اور باہمی اتحادکو فروغ دیا جاسکتاہے، مولانا مدنی نے کہا کہ ہم مایوس نہیں ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ جب لوگ بیدارہوجائیں گے، نفرت ہارے گی اور محبت جیتے گی، واضح ہوکہ سداپور کا علاقہ کیرالاکی سرحدپر واقع ہے، کیرالامیں جب سیلاب آیا تھا تو کرناٹک کے ان علاقوں میں بھی تباہ کن سیلاب آیا تھا، کیرالامیں سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کا کام دوسال پہلے ہی مکمل ہوگیا تھا لیکن سداپورمیں زمین کے حصول میں کچھ پریشانی تھی اس لئے بازآبادکاری کے کام میں تاخیرہوئی درمیان میں کورونا کی وبا آگئی اس سے تعمیر کا کام متاثرہوا، تاہم جمعیۃعلماء کرناٹک کے ذمہ داران کی مسلسل کوششوں اور یہاں کے مسلمانوں کے تعاون کے نتیجہ میں یہ مشکل مرحلہ طے پاگیا

    یہ بھی پڑھیں  پروفیسر تسنیم فاطمہ ریسرچ پیس ایوارڈ 2019سے سرفراز
    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہماری سمجھ سے بالاتر : مولاناارشد مدنی

    یہ مکانات چارسواسکوائرفٹ پرمشتمل ہے اور ان کی تعمیر پر فی مکان تین لاکھ روپے (زمین کے علاوہ)لاگت آئی ہے، قابل ذکر ہے کہ مہاراشٹرکے سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری مہم میں جمعیۃعلماء ہندنے 33بے گھر ہوئے خاندانوں کی بازآبادکاری کے منصوبہ کوحتمی شکل دیدی ہے ان میں 18 غیر مسلم خاندان ہیں، یہاں ایک مکان کی تعمیر پر لاگت کا تخمینہ تقریبا چارلاکھ روپے ہے، سیلاب متاثرین کی اس بازآبادکاری مہم میں کرناٹک کے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسلم سوسائٹی سداپورنے خاص طورسے ہرطرح کی مدد فراہم کی، مولانامدنی نے اپنے خطاب میں ذاتی طورپر ان تمام لوگوں کا نہ صرف شکریہ اداکیا بلکہ انہیں اپنی دعاؤں سے بھی نوازا۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    ہمیں بی جے پی حکومتوں کے جبر کے خلاف ہر محاذ پر لڑنا ہوگا : عمران پرتاپ گڑھی

    آسام: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے ایک روزہ دورے پر آسام...

    پرینکا سچی کانگریسی ہیں اور ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیری متاثرہ کنبوں کے ارکان سے ملنے...

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران...

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ''ایک نئی پہل'' کے عنوان...

    وزیر نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کا معائنہ کیا اور ذات کے سرٹیفکیٹ میں تاخیر پر افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی وارننگ دی...

    سماجی بہبود کے وزیر راجیندر پال گوتم نے اچانک معائنہ کیا اور ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر...

    کیجریوال حکومت اور بی جی پی حکومت رابعہ سیفی کو اِنصاف دلائے : عمران پرتاپ گھڑی

    مرادآباد : آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبۂ اقلیتی کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے دو روزہ دورے کے...

    اقلیتی شعبہ کے قومی صدراور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی کا شایان شان خیرمقدم

    اہم ذمہ داری ملنے کے بعد پہلی بار مرادآباد آمد پر پھولوں کی بارش،عوام کا اژدہام مرادآباد: کانگریس اقلیتی شعبہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you