رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    کشمیریوں کی اکثریت ہماری نظربندی پر خوش تھی ، وہ کہتے تھے’اچھا ہوا ان کے ساتھ‘ : عمر عبداللہ

    سری نگر : نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دلی نے ہماری (جموں و کشمیر کی مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کی) حالت مضحکہ خیز بنا دی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ کشمیریوں کی اکثریت ہماری ںطر بندی پر خوش تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ دلی نے ہمیں علیحدگی پسندوں کے مساوی ہونے کے بطور پیش کرنے کی بھی کوششیں کیں۔

    عمر عبداللہ نے انگریزی روزنامہ ‘انڈین ایکسپریس’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے : ‘ایمانداری سے بتاؤں گا۔ کشمیریوں کی اکثریت ہماری نظربندی پر خوش تھی، وہ کہتے تھے ، اچھا ہوا ان کے ساتھ، اور کہتے تھے کہ فاروق عبداللہ کو “بھارت ماتا کی جے ” کہنے کا اچھا صلہ ملا۔ جب تک چاہیں تب تک انہیں نظر بند رکھا جانا چاہئے ، یہ آپ کو الیکشن لڑنے کا صلہ ہے ۔ یہ آپ کو سال 2010 اور سال 2016 میں احتجاجوں کو دبانے کا معاوضہ ہے ۔ ہم ان کو باہر نہیں دیکھنا چاہتے ہیں، وادی میں لوگ ابھی بھی ایسا ہی سوچ رہے ہیں’۔

    یہ بھی پڑھیں  مولانا محمود مدنی نے کہا ، 70؍ سالوں میں کشمیریوں کو سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے پہنچایا

    عمر عبداللہ نے کہا کہ دلی کی کارروائیوں سے ہماری حالت مضحکہ خیز بن گئی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے : ‘نئی دلی کی کارروائیوں سے ہماری حالت مضحکہ خیز بن گئی ہے ۔ میں اس بات سے انکار کر ہی نہیں سکتا ہوں کہ کشمیری، سارے کمشیری میری نظر بندی پر ناخوش نہیں تھے ‘۔

    یہ بھی پڑھیں  اروند کجریوال کو سربراہی اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار دہلی عوام کی توہین

    ڈومیسائل قانون کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا: ‘اب اگر ہمیں ڈومیسائل ہی دینا ہے تو ہمیں کم سے کم وہ ڈومیسائل قانون دیجئے جو ہماچل پردیش جیسے ڈومیسائل قانون جیسا طاقت ور ہو۔ میں نے ہماچل میں ہی دسویں اور بارہویں کی جماعتیں پاس کی ہیں لیکن میں وہاں کی ڈومیسائل کا حقدار نہیں ہوں جبکہ جموں و کشمیر میں اگر کسی نے دسویں اور بارہویں کے امتحانات پاس کئے ہوں تو وہ یہاں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کا حقدار بن جاتا ہے ‘۔

    یہ بھی پڑھیں  اشتعال انگیز تقریر: سپریم کورٹ کرے گا بدھ کو سماعت

    دفعہ 370 کی بحالی کے مطالبے کے حوالے سے انہوں نے کہا: ‘جب لوگ مجھے کہتے ہیں کہ آپ دفعہ 370 کی بحالی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے ہیں، تو میں ان سے کہتا ہوں: ارے بھائی کس سے مطالبہ کروں، جنہوں نے لیا ان سے میں امید کروں کہ وہ واپس دیں گے ‘۔

    پانچ اگست کے فیصلوں سے ان کی سیاست پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا: ‘میں سمجھتا ہوں کہ میرا اسمبلی انتخابات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ اسی کا نتیجہ ہے ، میں کسی پر بھی بھروسہ کرنے سے اب اجتناب کروں گا، جو ایک مایوس کن بات ہے ‘۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  سی اے اے کے خلاف لکھنؤ خواتین اور بچوں کا مظاہرہ جاری

    Latest news

    اے پی : کوویڈ کیر سنٹر میں لگی آگ ، 7 افراد ہلاک

    حیدرآباد:اے پی کے وجئے واڑہ میں واقع سورنا پیلس ہوٹل جس کو رمیش اسپتال کی جانب سے کوویڈ کیر...

    اندھی بہری حکومت آشا کارکنوں کی بات نہیں سنتی : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے آشا کارکنوں کی حالت زار کے حوالہ سے مودی...

    جب تک عدالت حکم نہیں دیتی حکومت خود سے کچھ نہیں کرتی : چیف جسٹس آف انڈیا

    نئی دہلی : مسلسل زہر افشانی کرکے اور جھوٹی خبریں چلاکر مسلمانوں کی شبیہ کوداغدار اور ہندووں اورمسلمانوں کے...

    پولیس کی مجرموں کو پکڑنے کی کوشش جاری ، حکومت انہیں کڑی سزا دے گی : اروند کیجریوال

    نئی دہلی: وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ایمس میں زیادتی کا شکار 12 سالہ بچی اور ان کے کنبہ...

    لبنان: بندرگاہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 70 سے زائد ، 2500 سے زیادہ افراد زخمی ہیں

    ویب ڈیسک : لبنان کے دارالحکومت بیروت میں زور دار دھماکے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں سے مشرقی بیروت میں...

    اسلام میں قربانی کا کوئی بدل نہیں

    قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے دین و شریعت کے احکام کی تکمیل کی جائے: مولانا ارشد مدنی نئی دہلی:...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you