رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    تجسس و تحیر کے ساتھ فلسفہ حیات کا تعاقب کرتا ناول ’تعاقف‘ :پروفیسر فاطمی

    اردو گھر الہ آباد کے زیر اہتمام اور معروف ادیب و ناقد پروفیسر سید علی حیدر کی صدارت میں ممتاز صحافی اور ناول نگار ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کے ناول ’تعاقب‘ پر یادگار ادبی مذاکرہ کا انعقاد

    الہ آباد : ’تجسس و تحیر کے ساتھ فلسفہ حیات کا تعاقب کرتا ناول ’تعاقف‘ ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کا پہلا ناول ہے لیکن یہ کہیں کہیں قاری کو حیران کرتا ہے اور کہیں کہیں پریشان ۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ کی اس کی ابتدا ہی مکالموں سے ہوتی ہے جبکہ عام طور پر ناول کا آغاز تمہید یا فضا سازی سے ہوا کرتا ہے ۔ “ ان خیالات کااظہار ممتاز ترقی پسند ادیب و ناقد اور سابق صدر شعبہ اردو الہ آباد یونیورسٹی پروفیسر علی احمد فاطمی نے کیا ۔

    وہ یہاں اردو گھر الہ آباد کے زیر اہتمام آل انڈیا مسلم مجلس اتر پردیش کے صدر اور معروف سماجی کارکن یوسف حبیب کی رہائش گاہ حبیب منزل پر ممتاز صحافی و ناول نگار ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی کے تازہ ترین ناول ” تعاقب “ پرمنعقدہ ادبی مذاکرہ میں اپنا مقالہ ” فلسفہ حیات کا تعاقب کرتا ہوا ناول تعاقب “ پیش کر رہے تھے ۔ ناول کا اقتباس ”اے بھائی میں کچھ بولنا چاہتا ہوں ۔ کچھ کہنا چاہتاہوں ،کس سے کہوں ؟ ارے بھائی کوئی میری بات توسنو! میرا مذاق نہ بناﺅ ، مجھ غریب پر رحم کرو ۔میری بات تو سنو “پیش کرتے ہوئے پروفیسر فاطمی نے کہا ” محض دو جملوں کی فریاد ۔ کھانے پینے کے مطالبے کے بجائے کچھ سننے سنانے کی تڑپ اشاروں میں بہت کچھ کہہ دیتی ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  روحانی گرو’کلکی بھگوان‘ کے یہاں انکم ٹیکس کے چھاپے

    مکالمہ نگاری کا یہ انداز اور اس انداز سے ناول کا آغاز بھی بہت کچھ کہہ جاتا ہے ۔ رحیم کے کردارکا یہ پاگل پن کہ کوئی اس کی بات سُن لے ناول کو ابتدا میں ہی تحّیر و تجسس کی دنیا میں لے جاتا ہے اور یہ تجسس ہی قرائت کا پہلا زینہ ہوا کرتا ہے جو کبھی داستانوں میں تھا وہ اب ناول میں داخل ہو گیا ہے کہ اس تجسس کا راست تعلق انسانی فطرت اور جبلّت سے ہے ۔“ پروفیسر فاطمی نے کہا کہ ناول کا پہلا حصہ زیادہ معنی خیز ہے جس میں زندگی کی الجھنیں جابجاظاہر ہوتی ہیں ۔ ناول میں بدلتی ہوئی تہذیب کے دلچسپ نظارے ہیں ۔

    یہ بھی پڑھیں  روحانی گرو’کلکی بھگوان‘ کے یہاں انکم ٹیکس کے چھاپے

    ناول کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سوالات سے بھرا ہوا ہے ۔مذاکرہ میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے بزرگ ادیب و ناقد پروفیسر سید علی حیدر نے کہا کہ ناول ”تعاقب “ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قاری کو شروع سے آخر تک باندھے رکھتا ہے ۔ناول میں جذباتیت کم ،معروضیت زیادہ ہے ۔یہ ایک مکمل ناول ہے ۔ناول نگار ممتاز عالم رضوی کو میں مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔معروف طنز و مزاح نگار اور صحافی فضل حسنین نے ناول پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی فن پارے کا تجزیہ کرتے وقت ہمیں اس کی فنی خوبیوں اور خامیوں پر گفتگو تو کرنی چاہئے لیکن تخلیق کار کو اتنی آزادی ضرور ملنی چاہئے کہ وہ کیا لکھے اور کیا نہ لکھے ۔انھوں نے کہا کہ ممتاز عالم رضوی نے اتنی کم عمری میں ادب اور صحافت کی دنیا میں جتنی شہرت حاصل کر لی وہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہے ۔غالباً یہ ان کی والدہ کی دعاﺅں کا اثر ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  کابینہ کے وزیر گوپال رائے نے کیا مصطفی آباد ریلیف کیمپ کا دورہ

    سینئر افسانہ نگار اسرار گاندھی نے کہا کہ ممتاز عالم رضوی کے ناول ”تعاقب “ میں صحافتی رنگ کا غالب آنا کوئی عیب نہیں ہے ۔ خواجہ احمد عباس ہوں یا حیات اللہ انصاری جو بڑے صحافی بھی تھے اور ناول نگار بھی اور ان کے یہاں بھی صحافتی رنگ غالب رہا ہے ۔ اسرارگاندھی نے کہا کہ ناول میں جو پینٹنگ کی گئی ہے وہ بہت عمدہ ہے اور امید ہے کہ وہ آئندہ اس سے بھی بہتر ناول تخلیق کریں گے ۔

    کہنہ مشق شاعر ڈاکٹر ابوالیث صدیقی نے کہا کہ کئی دہائیوں کے بعد ناول پڑھنے کا اتفاق ہوا اور تعاقب پڑھنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس کو ضرور پڑھناچاہئے ۔ناول میں بہت ساری دنیائیں آباد ہیں ۔ناول میں شروع سے آخر تک ایک وحدت ہے اور اس میں جو سوالات ہیں وہ ناول کی کامیابی کی ضمانت ہیں ۔ادبی حلقہ میں اس کی قدر ہونی چاہئے ۔معروف پبلشر و ادیب جاوید نظر نے کہا کہ ممتاز عالم رضوی طالب علمی کے زمانے سے ہی فکشن میں دلچسپی رکھتے تھے ۔اپنی تمام تر صحافتی مصروفیات کے باوجود انھوں نے ناول ’تعاقب ‘لکھ کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ ناول کی زبان سہل اور عام فہم ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  کویت کی قومی فضائی کمپنی نے کی ایران کے لیے اپنی تمام پروازیں معطل
    یہ بھی پڑھیں  کابینہ کے وزیر گوپال رائے نے کیا مصطفی آباد ریلیف کیمپ کا دورہ

    ٹائٹل خوبصورت اور کور دےدہ زیب ہے۔ اردو گھر کے سکریٹری ڈاکٹر حسین جےلانی نے کہا کہ بہت کم وقت مےں ناول ”تعاقب“ نے ادبی حلقہ مےں خاصی شہرت حاصل کر لی ہے، جو قابلِ رشک ہے۔ ممتاز مزاجاً اپنے کیرئیر کے آغاز سے ہی جس طرح حقےقت کی تلاش و تعاقب مےں رہتے تھے، اس کی جھلک اس ناول مےں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں ممتاز جن مراحل سے گذرے ناول میں اس کا بھرپور ذکر ہے۔ ڈاکٹر شاہنواز عالم اور ڈاکٹر شاہد خان نے بھی اپنے خیالات پیش کیے جبکہ آخر میں حبیب یوسف نے مہمانوں کا شکریہ اداکیا ۔ مذاکرے میں سابق اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل قمر الحسن صدیقی، ڈاکٹر اسلم الہ آبادی، ڈاکٹر اشرف علی بیگ، اختر عزیز، طارق جعفر، مشتاق عامر، ڈاکٹر احسان حسن، محمد ہارون، محمد شکیل، محترمہ راشدہ، جاوید احسن ، ارشد علی ٹھاکر جیسی شہر کی معزز شخصیات نے بطور سامعین شرکت کی۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے کسانوں کی تعداد اور ان کے خلاف درج مقدمات کی کوئی معلومات نہیں ہے : مرکزی وزیر...

    نئی دہلی : مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ اس کے پاس کسان تحریک کے دوران جان گنوانے والے...

    ایم سی ڈی تبدیلی مہم کی تیاری 27 نومبر سے شروع، معلومات اپ لوڈ کرنے کے لیے خصوصی ایپ استعمال کریں گے: گوپال رائے

    نئی دہلی : آپ کے سینئر لیڈر گوپال رائے نے کہا کہ ایم سی ڈی انتخابات کے پیش نظر،...

    بنگلورو پولیس نے منّور فاروقی کو متنازعہ شخص قرار دیا

    بنگلور: کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورو کے ایک آڈیٹوریم میں اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا ایک شو منعقد کیا...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you