رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    مسلح افواج کو درپیش خطرات میں حیاتیاتی دہشت گردی شامل ہیں

    نئی دہلی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ مسلح افواج کو درپیش خطرات میں حیاتیاتی دہشت گردی کے لئے حیاتیاتی ہتھیاروں کا استعمال اب بھی ایک بڑا خطرہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے فورسز اور اس سے وابستہ میڈیکل ونگ کو تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات آج یہاں ملیٹری میڈیسن پر شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) ملکوں کی پہلی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہی۔ مسٹر راج ناتھ سنگھ نے ایس سی او ملکوں کی مسلح افواج کی میڈیکل سروسز (اے ایف ایم ایس ) پر زور دیا ہے کہ وہ محاذ جنگ کی مسلسل ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ذریعے فوجیوں کو درپیش نئے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹنے کے طریقہ کار وضع کریں۔ وزیر دفاع نے بائیو دہشت گردی کو آج کی دنیا کو درپیش حقیقی خطرہ قرا ر دیتے ہوئے اس لعنت سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    یہ بھی پڑھیں  ملک کی تعمیر و ترقی میں جامعہ کا کردار ناقابل فراموش : صدر جمہوریہ ہند

    انہوں نے کہا ‘‘میں حیایتیاتی دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے صلاحیت کو بڑھانے کی اہمیت کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔ حیاتیاتی دہشت گردی ایک حقیقی خطرہ ہے ۔ یہ ایک متعدی بیماری کی طرح پھیلتا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے مسلح افواج اور طبی خدمات کو آگے بڑھ کر محاذ سنبھالنا ہوگا۔وزیر دفاع نے کہا کہ میدان جنگ سے وابستہ ٹیکنالوجی میں مسلسل تبدیلی آرہی ہے اور اس سے نئے چیلنجز پیدا ہورہے ہیں۔ نئی اور غیر روایتی جنگوں نے ان چیلنجوں کو مزید پیچیدہ کردیا ہے ۔ مسلح افواج کی طبی خدمات کو ان چیلنجوں سے نمٹنے اور ان کی وجہ سے صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کے لئے عملی تجویز پیش کرنے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایٹمی ، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی وجہ سے صورتحال دن بدن پیچیدہ ہوتی جارہی ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  جامعہ ملیہ اسلامیہ نے سول سروسز مینز 2019 کے کامیاب امیدواروں کے لئے درخواستیں طلب کی ہیں  
    یہ بھی پڑھیں  ملک کی تعمیر و ترقی میں جامعہ کا کردار ناقابل فراموش : صدر جمہوریہ ہند

    مسلح افواج کے طبی ماہرین شاید ان خطرناک چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے سازوسامان سے آراستہ ہیں۔ زخمیوں کی دیکھ بھال اور ان کا بچاؤ ملٹری میڈیسن کا اہم پہلو ہے ۔ لڑائی کے دوران طبی سہولیات مہیا کرنے والی طبی خدمات کا فرض ہے کہ ، ان کے پاس زخمیوں کو جلد سے جلد ضروری مدد فراہم کرنے کے لئے واضح ، موثر اور آزمائشی طریقہ ہونا چاہئے ۔ یہ طریق کار اور تدبیریں مختلف فوجی کارروائیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اختیار کی جانی چاہیے ۔مسٹر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ نیوکلیائی ، کیمیائی اور حیاتیاتی جنگی حربوں نے موجودہ چیلنجوں کی پیچیدگی میں اضافہ کردیا ہے اور اے ایف ایم ایس ان چیلنجوں کی شناخت کرنے ، انسانی تحمل کی حدود کی تشریح کرنے اور منفی صحت اثرات کو کم کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  امامت اوراذان مقدس منصب ، ا ن کا احترام کرنا ہر مومن کا فریضہ : امانت اللہ خاں

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  امامت اوراذان مقدس منصب ، ا ن کا احترام کرنا ہر مومن کا فریضہ : امانت اللہ خاں

    Latest news

    اسپتال میں ملی ہاپوڑ کے محسن علی کی لاش

    دنگائیوں کی بھینٹ چڑھ گیا معصوم نئی دہلی : شمال مشرقی دہلی میں اتوار سے تشددجاری ہے، اس تشددمیں اب...

    شاہین باغ معاملے میں سماعت کے لئے ماحول سازگار نہیں : سپریم کورٹ

    نئی دہلی:سپریم کورٹ نے بدھ کو دہلی کے شاہین باغ علاقے میں مظاہرین کو ہٹائے جانے سے متعلق عرضیوں...

    شمال مشرقی دہلی میں تشدد میں مرنے والوں کی تعداد 9، حالات کشیدہ

    نئی دہلی: شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کے خلاف جاری تشدد میں آج...

    این پی آر پرانے طریقے سے ہی ہوگا ، این آر سی غیر ضروری : نتیش

    پٹنہ: بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج اسمبلی میں قومی شہری رجسٹر ( این آر سی ) کو...

    مرکزی حکومت نے دہلی میں تشدد کے معاملے پر ہنگامی میٹنگ طلب کی

    نئی دہلی: دہلی میں دو دن سے جاری تشدد کے واقعات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے منگل کے...

    ہمیں پھر ایک بار اپنی قربانیوں کا جائزہ لینا پڑے گا : قاری محمد طیب قاسمی

    آنند نگر مہراج گنج : گزشتہ روز ضلع مہراج گنج کی مشہور ادارہ دارالعلوم فیض...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you