رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    تبلیغی مرکز کھلوانے کے لیئے وقف بورڈ نے کھٹکھٹایا عدالت کا دروازہ

    وقف بورڈ نے کہا مرکز کو بند رکھنا انصاف کے خلاف،وقف بورڈ نے تحقیقاتی افسر کی رپورٹ پر نظر ثانی کی درخواست کی،کہا مرکز کی تالا بندی کے وقت قانون کو بالائے طاق رکھا گیا۔عدالت نے مرکزی حکومت کو جاری کیا نوٹس،سماعت کی اگلی تاریخ 5مارچ

    نئی دہلی : حضرت نظام الدین واقع عالمی تبلیغی مرکز کا تالا کھلوانے کے لیئے دہلی وقف بورڈ نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے دہلی وقف بورڈ کے ذریعہ 19فروری کو دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا جہاں لسٹنگ کے بعد آج معاملہ کی سماعت ہوئی اور معاملہ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے مرکزی حکومت ہند کو اس کا موقف جاننے کے لیئے نوٹس جاری کردیا۔جبکہ سماعت کے لیئے اگلی تاریخ 5مارچ مقرر کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق گزشتہ سا ل ہندوستان بھر میں کورونا مرض پھیلنے کے بعد عالمی تبلیغی مرکز میں مذہبی سرگرمیاں بند کرتے ہوئے مرکز پر تالا لگادیا گیا تھا جس کے بعد سے ہی مرکز کے تحت تمام تبلیغی سرگرمیاں بند ہیں اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے قفل بندی کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمام انصاف پسندوں خاص کر مسلمانوں میں بے چینی ہے۔تبلیغی مرکز کی حمایت میں شروع سے ہی بیباکی کے ساتھ اپنی آواز بلند کرنے والے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اب اس مسئلہ میں دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے اور معاملہ کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دہلی وقف بورڈ نے پیروی کے لیئے اپنے اسٹنڈنگ کونسل وجیہ شفیق کے ساتھ دہلی بار کونسل کے چیئرمین سینئر وکیل رمیش گپتا کو مقرر کیا ہے جبکہ دہلی حکومت کی جانب سے بھی سینئر وکیل راہل مہرا نے تبلیغی مرکز کھولے جانے کے حق میں دہلی حکومت کا موقف رکھا۔

    یہ بھی پڑھیں  دہلی والوں کو ایک اور تحفہ ، وزیر اعلی اروند کیجریوال نے آن لائن صارفین کی شکایت نظام کا کیا افتتاح

    یہ انتہائی حسا س معاملہ آج جسٹس مکتا گپتا کی عدالت میں پیش ہوا جہاں دہلی وقف بورڈ کی جانب سے سینئر وکیل رمیش گپتا،اسٹینڈنگ کونسل وجیہ شفیق دہلی حکومت کی جانب سے سینئر اسٹینڈنگ کونسل راہل مہراحاضر ہوئے جبکہ مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشارمہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل موجود رہے۔ تفصیل کے مطابق جیسے ہی معاملہ کی سماعت شروع ہوئی فورا ہی سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا نے کہا کہ چونکہ معاملہ انتہائی حساس ہے اس لیئے مرکزی حکومت کو پارٹی بنایا جانا ضروری ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  دہلی حکومت آئندہ 5 ماہ تک مستفید افراد کو مفت پی ڈی ایس راشن فراہم کرے گی : اروند کیجریوال

    دوسری جانب دہلی وقف بورڈ کے وکیل نے اپنا موقف رکھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مرکز کو بند کرتے وقت قانونی ضوابط کی ان دیکھی کی گئی ہے اس لیئے تحقیقاتی افسر(I.O)کی رپورٹ پر نظر ثانی کا حکم دیا جائے ساتھ ہی وقف بورڈ نے کہاکہ مرکز کی تالابندی پر کافی وقت گزر چکاہے اور کسی مذہبی مقام کو اتنے لمبے وقت کے لیئے بنا جواز بند رکھنا انصاف کے خلاف ہے خاص کر جب تبلیغی مرکز سے متعلق بہت سے مقدمات ختم ہوچکے ہیں۔دہلی حکومت کا موقف رکھتے ہوئے سینئر اسٹینڈنگ کونسل دہلی حکومت راہل مہرا نے کہاکہ عالمی تبلیغی مرکز سے متعلق ابھی کچھ مقدمات زیر سماعت ہیں جن میں کافی وقت لگ سکتا ہے اس لیئے اتنے لمبے عرصہ کے لیئے کسی مذہبی مقام کوبند رکھنا نامناسب ہوگا۔

    یہ بھی پڑھیں  اس سال کا حج انتظام گذشتہ تمام سالوں کے مقابلہ بہت بہتر

    غور طلب ہیکہ معاملہ میں ابھی تک مرکزی حکومت پارٹی نہیں تھی جبکہ اس کی جانب سے حکومت ہند کے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل پہلے ہی دن عدالت میں موجود تھے جس سے معاملہ کی حساسیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔غور طلب ہیکہ جیسے ہی گزشتہ سال کورونا وبائی مرض پھیلنے کی شروعات ہوئی ویسے ہی فرقہ پرست عناصر نے عالمی تبلیغی مرکز نظام الدین کو نشانہ بناکر ایک طبقہ کو نشانہ بنانا شروع کردیا جس کی آڑ میں فرقہ پرست میڈیا نے مسلم طبقہ کو ہدف تنقید بناکر ان کے خلاف نفرت پر مبنی پروپیگنڈہ کی مہم شروع کردی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو طبقوں کے بیچ مذہبی منافرت کی دیوار کھڑی ہوگئی اور ایک مخصوص طبقہ کو کورونا مرض کا ذمہ دار بتاکر اس پر حملے شروع ہوگئے۔

    یہ بھی پڑھیں  ملک کے 5 سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں تین شہروں کا تعلق اترپردیش سے

    یہ صورتحال ہندوستانی مسلمانوں کے لیئے انتہائی تکلیف دہ تھی جس کے خلاف دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے بے باکی کے ساتھ اپنی آواز بلند کی اور تبلیغی جماعت کے مرکزی امیر مولانا سعد اور تبلیغی مرکز کی حمایت میں کھڑے نظر آئے جس کے بعد فرقہ پرست عناصر نے امانت اللہ خان کے خلاف بھی محاذ کھول دیا۔بہر حال امانت اللہ خان نے اب مرکز کا تالا کھلوانے کے لیئے دہلی ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے جہاں 5مارچ کو معاملہ کی سماعت ہونی ہے۔اس موقع پر اما نت اللہ خان نے کہاکہ تبلیغی مرکز کو ایک سازش کے تحت نشانہ بنایا گیا

    یہ بھی پڑھیں  کابینہ کے وزیر گوپال رائے بابرپور اسمبلی میں جاری ترقیاتی کاموں کے بارے میں عہدیداروں سے ملاقات کر جائزہ لیا

    اور اس کی آڑ میں مسلمانوں پر حملے کیئے گئے لیکن انشاء اللہ انصاف کی جیت ہوگی اور جلد ہی مرکز کا تالا کھلے گا۔انہوں نے کہاکہ پولیس انتظامیہ کی جانب سے مرکز کی تالابندی کرتے وقت تمام طرح کے ضوابط اور قانون کو بالائے طاق رکھ دیا گیا تھا اور وبائی مرض کو بھی مذہب کا جامہ پہناکر فرقہ پرستوں نے اپنے نفرتی ایجنڈہ پر کام یا لیکن انشاء اللہ اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو برباد کرنے کی سازشیں ناکام ہوکر رہیں گی اور انصاف کا بول بالا ہوگا۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    نرسنگھا نند سروسوتی کے بیان سے ہندوستان کی شبیہ دنیا میں داغدار ہوئی

    گستاخ رسول کے خلاف دیئے گئے اپنے بیان پر قائم،میرا بیان ہندوستان کے آئن کے مطابق،پارلیمینٹ اسٹریٹ تھانہ پہونچ...

    نرسنہانند پر کارروائی کے لئے صدر جمہوریہ کو میمورنڈم

    وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو بھی کاپی،چیئرمین امانت اللہ خان نے درج کرائی تھی شکایت،مساجد کے ممبروں سے...

    آج کسان ایم ایس پی کی لڑائی لڑ رہے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ تین زرعی قوانین کے نفاذ کے بعد کتنا تکلیف...

    نئی دہلی : دہلی کی منڈیوں میں کاؤنٹر لگا کر ایف سی آئی کی جانب سے گندم کی خریداری...

    وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے بے گھر کنبے کے لئے فلیٹ شفٹ کرنے کے لئے ‘جہاں کچی آبادی ،وہیں مکان’ اسکیم کا جائزہ لیا

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کچی بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کے لئے ' جہاں جھگی...

    لال مسجد معاملہ ، 29اپریل تک کسی طرح کا ایکشن نہ لینے کی مرکز نے کرائی یقین دہانی

    مسجد کو شہید کرنے کی ہورہی ہے سازش،وقف بورڈ نے دکھائی مستعدی،پولیس انتظامیہ کے ذریعہ مسجد شہید کرنے کی...

    امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی وفات پر ملت ٹائمز کے زیر اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد

    نئی دہلی : امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نور اللہ مرقدہ کے سانحہ ارتحال پر ملت ٹائمز کے زیر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you