رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    اجودھیا تنازعہ سمیت ان 7 اہم معاملات پراگلے8 دنوں میں آئے گا فیصلہ

    نئی دہلی : سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی 17 نومبرکوریٹائرڈ ہونے والے ہیں، لیکن ہفتہ، اتواراورتعطیلات کوچھوڑدیں، توان کے پاس کام کرنیکیلئیصرف 8 دن ہی باقی ہیں۔ ان 8 دنوں میں سپریم کورٹ میں زیرسماعت 7 ایسیبڑے معاملات کے فیصلے آنے ہیں، جو مذہب، سیکورٹی اورسیاست جیسے موضوع سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ فی الحال دیوالی کی چھٹیوں کیتحت بند سپریم کورٹ جب چارنومبرکودوبارہ کھلیگا تو کس معاملہ میں کیسا فیصلہ آتا ہے۔رام جنم بھومی – بابری مسجد اراضی تنازع میں ہندو اورمسلم فریقوں کیذریعہ دائر کی گئی اپیلوں پر40 دنوں تک سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کی بینچ نیاس معاملہ پر16 اکتوبرکوفیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ اس معاملہ میں دونوں فریقوں نیمورخین، مسافرین، گزیٹیئر، انگریزکے زمانہ سے چلی آرہے زمین سیمتعلق کاغذات کے ساتھ اپنے اپنیعقائد کا موقف بھی پیش کیا۔ محکمہ آثارقدیمہ کی رپورٹس کوبھی سماعت کیدوران ججوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے ستمبر2010 کیاپنے فیصلہ میں متنازع زمین کوتین حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔

    رام للا، نرموہی اکھاڑہ اورسنی وقف بورڈ کے درمیان اراضی تقسیم کی گئی تھی۔سپریم کورٹ کے سینئروکیل پرشانت بھوشن، سابق مرکزی وزیرارون شوری اوریشونت سنہا نے رافیل جنگی طیارہ ڈیل سے متعلق نظر ثانی کی عرضی داخل کی تھی۔ یہ عرضی سپریم کورٹ کیذریعہ رافیل معاملہ میں ہی گزشتہ سال 14 دسمبرکو دیئیگئیفیصلہ کے خلاف داخل کی گئی تھی۔ اس وقت سپریم کورٹ نے رافیل ڈیل میں بدعنوانی سے متعلق الزامات کی جانچ کا حکم دینے سیانکارکردیا تھا۔دی ہندواخبارنے مبینہ دستاویزات لیک کئے تھے، جن کی بنیاد پرعرضی گزارنے نظرثانی کی عرضی داخل کی تھی۔ اٹارنی جنرل کے کیوینوگوپال نیدلیل دی تھی کہ چونکہ وہ دستاویزغیرقانونی طریقہ سے حاصل کئے گئے ہیں، ایسے میں ان کی عدالت میں کوئی اہمیت نہیں ہوسکتی۔ عدالت نیاس دلیل کو خارج کردیا تھا، لیکن رافیل ڈیل پرعرضی گزارکے مطابق فوری فیصلہ نہیں سنایا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں  ملک بھر میں آج رات سے 21 دن تک مکمل لاک ڈاؤن

    نظرثانی کی عرضی پر10 مئی 2019 کوعدالت نیاپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ خیال رہیکہ جس بینچ نییہ فیصلہ محفوظ رکھا تھا، اس میں جسٹس رنجن گوگوئی بھی شامل تھے۔اسی رافیل معاملہ میں عدالت کے ذریعہ فیصلہ محفوظ رکھ لینے کے بعد اس وقت کے کانگریس صدرراہل گاندھی نے میڈیا میں دعوی کیا تھا کہ عدالت نے کہہ دیا ہے کہ چوکیدار (وزیراعظم مودی ) چورہیں۔ بی جے پی لیڈرمیناکشی لیکھی نے راہل گاندھی کے ذریعہ اپنے الفاظ عدالت کے ہونیکا دعوی کرنیکوعدالت کی توہین بتاتے ہوئیعرضی داخل کی تھی، جس کے بعد راہل گاندھی کو سپریم کورٹ سے معافی مانگنی پڑی تھی۔ انہوں نیکہا تھا کہ انتخابی گہماگہمی میں ان کی زبان پھسل گئی تھی۔ سی جے آئی گوگوئی اس معاملہ میں بھی اپنا فیصلہ سنائیں گے۔اس معاملہ میں بھی پانچ ججوں کی آئینی بینچ ہے۔ بینچ کے سربراہ چیف جسٹس گوگوئی ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  سڑک کنارے مرغا بکرا کاٹنے والوں کی خیر نہیں : وزیراعلیٰ یوگی
    یہ بھی پڑھیں  ججوں کو اپنی آزادی برقرار رکھنے کیلئے خاموش رہنا چاہئے : رنجن گگوئی

    دراصل 28 ستمبر 2018 کوسپریم کورٹ نیکیرالہ میں واقع سبری مالا مندرمیں رجسولا (10 سے50 سال عمرکی ایسی خواتین جنہیں حیض آتے ہوں یا پھرآنیکا امکان ہو) کے مندر میں داخل ہونے پرعائد پابندی ہٹادی تھی۔ سپریم کورٹ کیاس فیصلہ کے خلاف 65 عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ عدالت نیصدیوں قدیم مذہبی روایت میں مداخلت کی ہے۔ اس معاملہ میں سی جے آئی گوگوئی پانچ ججوں کی بینچ کے ساتھ یہ طے کریں گے کہ ستمبر2018 میں سپریم کورٹ کے پرانیفیصلہ کوبرقراررکھنا ہے، یا اس کو بدل کرکوئی نیا فیصلہ سنانا ہے۔سپریم کورٹ کی آئینی بینچ نے چار اپریل کو سی جے آئی کیاآر ٹی آئی کے دائرہ میں آنے سے متعلق ایک عرضی پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ پانچ ججوں کی آئینی بینچ سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل کے ذریعہ دہلی ہائی کورٹ کے سی جے آئی کو آرٹی آئی کے دائرہ میں لانے سے متعلق فیصلہ ( 2010 ) کے خلاف دائرعرضی پرسماعت کررہی تھی۔ ریٹائرڈ ہونے سے پہلے رنجن گوگوئی کیاہم فیصلوں میں سے ایک یہ بھی ہوگا۔دس اپریل کوسپریم کورٹ نے ریوینیو بار ایسوسی ایشن کے ذریعہ داخل عرضی پرفیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں  ای ڈی کو نہیں ملی چدمبرم کی حراست، 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجے گئے

    عرضی میں فائنانس ایکٹ 2017 کی ان شقوں کوچیلنج کیا گیا ہے، جن سے مختلف عدالتی ٹریبونلس جیسے این جی ٹی، انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل، نیشنل کمپنی لا ٹریبونل وغیرہ متاثرہ ہورہا تھا۔سپریم کورٹ کے سابق جج اے کے پٹنائک اس بات کی جانچ کررہے تھیکہ کیا سی جے آئی گوگوئی کے خلاف جنسی استحصال کی شکایت کوئی سازش تھی ؟ جسٹس ارون مشر،آرایم نریمن اوردیپک گپتا کی خصوصی بینچ نے جسٹس پٹنائک کی تقرری کی تھی۔ جانچ کی بنیاد وکیل اتسوبینس کی وہ شکایت تھی، جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ ان سے فکسروں، کارپوریٹ لابئسٹوں اورسپریم کورٹ کیناراض ملازمین نے سی جے آئی کے خلاف شکایت درج کرانے کیلئے رابطہ کیا تھا۔ خبروں کے مطابق جسٹس پٹنائک نے جانچ پوری کرکے اپنی رپورٹ عدالت کو سونپ دی ہے۔ یہ فیصلہ بھی اپنے آپ میں تاریخی ہوگا۔

    یہ بھی پڑھیں  سڑک کنارے مرغا بکرا کاٹنے والوں کی خیر نہیں : وزیراعلیٰ یوگی

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    دس مہینے بعد تعلیمی سرگرمی شروع ہونے سے بچوں کے چہروں پر لوٹی مسکراہٹ

    نئی دہلی: دس مہینے بعد دہلی کے اسکولوں میں محدود ہی سہی لیکن رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں۔ کل...

    دہلی فسادات معاملہ،متاثرین کی باز آبادکاری میں مصروف اقلیتی فلاحی کمیٹی

    میٹنگ میں جلد سے جلد زیر التوامعاملات کے نپٹارہ کی افسران کو ہدایت،کچھ معاملات میں دوبارہ سروے کرنے کی...

    بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی سے نہ صرف دہلی کے لوگ متاثر ہیں، بلکہ ملازمین بھی نالاں ہیں : سوربھ...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے چیف ترجمان سوربھ بھاردواج نے کہا کہ بی جے پی کے زیر...

    راجیندر نگر کے ایم ایل اے راگھو چڈھا نے سوامی دیانند سروودیا کنیا اسکول کا دورہ کیا

    لاک ڈاؤن کے بعد اسکول کھلنے کے بعد سکیورٹی کے تمام انتظامات کردیئے گئے ہیں، طلباء اساتذہ کو N95...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you