رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    ترک صدرنے کی داود اوگلو کی استنبول یونیورسٹی بند

    استنبول : ترک صدر رجب طیب اردغان اور سابق وزیراعظم احمد دائود اوگلو کے درمیان اختلافات کی خبریں کافی پرانی ہیں۔ دائود اوگلو نے وزارت عظمیٰ سے سبکدوش کیے جانے کے بعد حکمران جماعت’آق’ سے علاحدگی اختیار کی اور صدر طیب ایردوآن کی آمرانہ پالیسیوں پر تنقید کرنے لگے۔ انہوں نے اپنی ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی کوششیں شروع کیں تو ایردوآن اس پر اور بھی زیادہ برانگیختہ ہوگئے۔ ایردوآن کی خوئے انتقام یہاں تک بھڑک اٹھی کہ انہوں نے اپنے سابق قابل اعتماد ساتھی احمد دائود اوگلو کی’شہیر استنبول’ یونیورسٹی کو بند کرکے ہزاروں طلبائ کا مستقبل دائو پر لگا دیا ہے۔

    ‘فارن پالیسی میگزین’ کے مطابق ترک صدر نے احمد دائود اوگلو کوپارٹی چھوڑںے اور ان سے اختلاف کرنے کی یہ سزا دی ہے کہ ان کی یونیورسٹی بند کرکے اسے ملنے والی رقم بھی بند کردی ہیں اور یونیورسٹی کے اثاثے بھی منجمد کردییہیں۔فارن پالیسی میگزین کے مطابق وزارت عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد صدر طیب ایردوآن اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے احمد دائود اوگلو کی زندگی مشکل بنا دی گئی ہے۔ 2016 میں انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے ایردوآن کو ترکی کی جمہوریت کوآمریت میں بدلنے پر خبردار کیا توان پرعرصہ حیات اور بھی تنگ کردیا گیا۔ حالیہ عرصے کے دوران احمد دائود اوگلو نے زیادہ شدت کے ساتھ صدر ایردوآن کی پالیسیوں پر آواز بلند کرنے لگے تھے۔ یہ اختلاف اس وقت زیادہ شدت اختیارکرگیا جب احمد دائود نے اپنی الگ سیسیاسی جماعت تشکیل دینے کا اعلان کیا۔

    یہ بھی پڑھیں  یوگی حکومت بے قصوروں کی مدد کے لئے آگے آئے تو بہتر ہوگا : مایاوتی

    احمد دائود اوگلو کی اس سیاسی مخالفت پر ایردوآن کی آمرانہ روش مزید بڑھ گئی اور انہوں نے احمد دائود اوگلو کی سیاسی اور علمی میراث استنبول میں قائم ان کی ‘شہیر استنبول یونیورسٹی’ پر کاری ضرب لگانے کی ٹھان لی۔رواں ماہ کے دوران استنبول کی ایک عدالت نے ‘خلق بنک’ کو ‘شہیر استنبول’ یونیورسٹی کوفنڈز کی فراہمی پرپابندی لگا دی۔ اوگلو نے یہ درس گاہ 2008ئ میں قائم کی تھی۔ یونیورسٹی کے قیام کے لیے’خلق بنک’ کی طرف سے 70 ملین ڈالر کے مساوی رقم فراہم کی گئی۔ یہ رقم قرض کی شکل میں ادا کی گئی تھی۔ اس رقم سے مشری استنبول میں ایک وسیع وعریض ہاسٹل اور یونیورسٹی کیمپس قائم کیا گیا۔اکتوبر میں خلق بنک نے اچانک یونیورسٹی کے تمام کھاتے منجمد کردیے۔ یہ اس وقت کیا گیا جب اوگلو کی طرف سے ‘انصاف وترقی پارٹی’ آق’ کے مقابلے میں ایک نئی سیاسی جماعت کا اعلان کیا گیا۔

    یہ بھی پڑھیں  ہر برس کاٹ دیے جاتے ہیں ساڑھے آٹھ کروڑ ٹن جنگل
    یہ بھی پڑھیں  شاہین باغ معاملے میں سماعت کے لئے ماحول سازگار نہیں : سپریم کورٹ

    اس وقت یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ ‘خلق بنک’ کی طرف سے اگلو کی یونیورسٹی کے تمام کھاتے منجمد کرنیکے پیچھے ایردوآن حکومت کا ہاتھ ہے۔یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کے سربراہ کھرمان ساکول نے بتایا کہ شہیر استنبول یونیورسٹی میں 7 ہزار طلباء طالبات زیرتعلیم ہیں۔ ان میں ایک چوتھائی طلبائ اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یونیورسٹی نے 10 فی صد عملہ بیرون ملک سے تعینات کیا ہے جب کہ اس درس گاہ میں زیرتعلیم 15 فی صد طلباء غیرملکی ہیں۔ خلق بنک کی طرف سے کھاتے منجمد کیے جانے کے بعد عملے کے کسی رکن کو تنخواہ ادا کی جاسکتی ہے اور نہ یونیورسٹی کیدیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کا کوئی اور راستہ بچا ہے۔ساکول کا مزید کہنا ہے کہ عن قریب یونیورسٹی کی بجلی بھی منقطع کردی جائے گی۔ گیس اور انٹرنیٹ کی سہولیات پہلے ہی چھین لی گئی ہیں۔ ہمارے پاس اب وقت نہیں بچا ہے۔

    ہم سب اس صورت حال پر سخت پریشان ہیں۔ ہمارے پاس صرف دو ماہ بچے ہیں۔ اگر خلق بنک کی طرف سے رقوم کی ترسیل بحال نہ کی گئی تو یونیورسٹی بجلی کے بلات کی ادئیگی نہیں کرسکے گی۔احمد دائود اگلو نے 1980 کی دھائی میں سائنس اینڈ آرٹس فائونڈیشن قائم کی۔ یہ ایک غیر منافع بخش ادارہ تھا۔ سال ہا سال تک اس اکیڈیمی سے ہزاروں کی تعداد میں طلبائ￿ تعلیم حاصل کرتے اور کورسز کرتے رہے ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  سب کو ساتھ لئے بغیر ہندوستان کی معیشت نہیں چلائی جا سکتی: راہل گاندھی

    اس ادارے میں داخلہ لینے والے تمام طلبائ￿ کو مفت تعلیمی سروسز فراہم کی جاتیں۔ 2016 کو ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد طیب ایردوآن نے جلا وطن رہ نما فتح اللہ گولن سے منسلک سیکڑوں تعلیمی اداروں اور 15 بڑی جامعات کو بند کیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نہ صرف لوگ بے روزگار ہوگئے بلکہ ہزاروں طلباء کا تعلیمی کیریئر بھی دائو پر لگ گیا۔انقرہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر عثمان سرت کا کہنا ہے کہ وہ احمد دائود کو بہت قریب سے جانتے ہیں۔جب وہ اوگلو وزیرخارجہ تھے تو وہ ان کے مشیر تھے۔ عثمان سرت کا کہنا ہے کہ احمد دائود اوگلو کے نزدیک تین اہم چیزوں میں پہلے نمبر پران کا خاندان، دوسرا ان کا ملک اور تیسری شہیر استنبول یونیورسٹی ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  سوچی کا روہنگیا مسلمانوں پر میانمار فوج کے مظالم کا دفاع

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    کورونااورلاک ڈاؤن بھی نفرت کے وائرس کو ختم نہیں کرسکے

    مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کا یہ خطرناک کھیل آخر کب تک؟: مولانا...

    مسلمانوں سے متعلق میڈیا کا دہرا رویہ تشویشناک ، گرفتاریوں کا ڈھنڈورا لیکن عدالت سے رہائی کا کوئی ذکر نہیں : مولاناارشدمدنی

    نئی دہلی : بنگلور سیشن عدالت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سے ڈسچار ج کیئے گئے تریپورہ...

    ہماری سرکار اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے : وزیراعلیٰ،دہلی

    وائس چیئرمین اکادمی حاجی تاج محمد سے خصوصی ملاقات میں متعلقہ مسائل کے حل کی یقین دہانی نئی دہلی :...

    جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے اور وہ راشن لینا چاہتے ہیں، وہ مرکز میں آکر راشن لے سکتے ہیں: گوپال رائے

    نئی دہلی : دہلی کے وزیر ترقیات گوپال رائے نے آج بابرپور کے علاقے کردمپوری میں پرائمری اسکول میں...

    رام مندر کے لئے ، 12080 مربع میٹر اراضی 18.50 کروڑ میں خریدی گئی ، جبکہ اس سے متصل 10370 مربع میٹر اراضی صرف...

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور اترپردیش انچارج سنجے سنگھ نے رام مندر کے لئے...

    نائب وزیر اعلی اور وزیر خزانہ منیش سسودیا نے غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کرنے کا حکم جاری کیا

    نئی دہلی : کورونا کی وجہ سے اخراجات میں اضافے کی وجہ سے ، دہلی حکومت نے اخراجات کے...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you