رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    ہمیں مسایل کو مواقع میں بدلنا ہوگا : ڈاکٹر ظہیر قاضی صدر انجمن اسلام

    موجودہ شکل میں نئی تعلیمی پالیسی مذہبی اور ثقافتی طور پر خطرہ ثابت ہوگی : کپل پاٹل (ایم ایل سی)
    مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا 6 فی صد نہیں’بلکہ معیاری نظام تعلیم کے لیے 10فی صد تک خرچ کرنا ہوگا : ڈاکٹر عبدالشعبان (سینیر پروفیسر ٹاٹا انسٹیٹیوٹ)

    ممبئی : اردو کارواں کے زیر اہتمام نیء تعلیمی پالیسی کے تعلق سے طلباء کے خیالات و نظریات پر ڈاکٹر ظہیر قاضی (صدر انجمن اسلام) کی صدارت میں ویبنار کا انعقاد کیا گیا، ویبنار کی ابتداء میں پروفیسر شبانہ خان جنرل سیکرٹری اردو کارواں نے اردو کارواں کا تعارف دیتے ہوے تعلیم اور مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی.

    فرید احمد خان صدر اردو کارواں نے ویبنار کی غرض و غایت پر معلومات فراہم کرتے ہوے کہا کہ نیء تعلیمی پالیسی جن کے لیے بنای جارہی ہے، یعنی طلباء، کیوں نہ ان سے اس کے تعلق سے بات کی جاے کہ وہ کیا سوچتے ہیں؟ لہزا اسی نکتے پر توجہ مرکوز رکھتے طلباء کو اس ویبنار میں ان کے خیالات جاننے کے لیے مدعو کیا گیا.

    ساگر بھالے راو شعبہء ترسیل و ذرائع ابلاغ نے نیء تعلیمی پالیسی کے تعلق سے بات کرتے ہوے کہا کہ پالیسی کو بناتے وقت سچر کمیٹی کی رپورٹ کو سراسر نظرانداز کیا گیا ہے، جو مسلمانوں کے تعلیمی فی صد پر بھی روشنی ڈالتی ہے، جو کہ بہت خراب ہے، اگر اقلیتی طبقے کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنی ہے تو ان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا. انھوں نے اس پالیسی کے تحت نیء یونیورسٹی بننے کی تائید بھی کی.

    رمیض خان طالب علم رضوی لاء کالج نے نیء تعلیمی پالیسی کے کچھ نکات کی تائید کرتے ہوے کہا کہ نصاب کی طرف توجہ دینے اور طلباء کو بھی اس پالیسی کا حصہ ہونا چاہیے تھا کیونکہ بحرحال پالیسی تو انھی کے لیے بنی ہے.

    یہ بھی پڑھیں  ولایت فاؤنڈیشن نے کی کورونا وارئیرس کی حوصلہ افزائی

    شہباز خان طالب علم معاشیات ٹاٹا انسٹیٹیوٹ نے نیء تعلیمی پالیسی کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوے این ای پی کی تائید کی لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ بھی باور کرایا کی اس میں مغلیہ زمانے اور برطانیہ حکومت کا کہیں ذکر نہیں جبکہ یہ دونوں زمانے آزاد ہندوستان کی تعلیمی پالیسی میں اہم رول ادا کرتے ہیں.
    آنند طالب علم ڈیولپمنٹ اسٹڈیز ٹاٹا انسٹیٹیوٹ نے کہا کہ بہت سارے شک و شبہات ہیں جنکو دور کرنے کی ضرورت ہے وسیم سر لیکچرار آر سی ڈی ایڈ کالج امام باڑہ نے، ڈی ایڈ کورس/بی ایڈ کورس کے تعلق سے نیء تعلیمی پالیسی میں جن نکات کا اندراج کیا ہے، انھوں نے ان پر اپنی بات رکھی.

    چھبیل داس طالب علم شعبہء جغرافیہ ممبیء یونیورسٹی نیء تعلیمی پالیسی پر بات کرتے ہوے کہا کہ اس میں جن نکات کا اندراج کیا گیا ہے ان کا اطلاق اتنا آسان نہیں ہے، کافی چیلنج ہے اور ہمیں ان کے لیے تیار رہنا چاہیے. مہمان اعزازی ڈاکٹر عبدالشعبان سینیر پروفیسر ٹاٹا انسٹیٹیوٹ نے کہا کہ اگر اس پالیسی پر قایدے سے کام کیا جاے تو ترقی کے مواقع نکل سکتے ہیں. مگر اس پالیسی میں غریب طبقے کو، پچھڑے طبقے کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، انھوں نے پالیسی کے کمزور پہلووں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوے کہا کہ اس پالیسی میں تنوع کی گنجائش کم ہے،لیکن اگر جی ڈی پی کا چھ فی صد نہیں، معیاری نظام تعلیم کے لیے دس فیصد تک خرچ کریں تو ترقی کے مواقع ہو سکتے ہیں .

    یہ بھی پڑھیں  بی جے پی ہیڈ کوارٹرز پر احتجاج کرنے جارہے کارکنوں کو بیریکیڈ لگا کر پولیس نے روکا

    یہ پالیسی انتہائی قدیم تہذیب و تمدن اور تعلیم کی طرف لے جاتی ہے، انھوں نے کہا کہ ایک طرح سے یہ پالیسی ابھی صرف ایک خواب ہے، متوسط طبقے کے لیے ہے جو کہ محدود ہے، ترقی کے مواقع کم ہونگے کیونکہ ہمارے یہاں مذہبی مزاج پر منحصر ادارے ہی چلتے ہیں، ہندوستانی سماج دو طبقوں پر منحصر ہے سیاست اور مذہب اور جس طرح اس پالیسی کو ترتیب دیا گیا ہے اس میں ایک مذہب خاص کی تعلیم اور تہذیب کے نفاذ کی بڑی گنجایش ہے. ایسے میں ملک کا نوجوان طبقہ کس طرح خود کی حاضری درج کروا سکے گا یہ بڑا سوال ہے

    یہ بھی پڑھیں  ایم سی ڈی میں چل رہی رشوت خوری بند کریں : سنجے سنگھ

    مہمان خصوصی کپل پاٹل (ایم ایل سی) نے کہا کہ موجودہ شکل میں نیء تعلیمی پالیسی مذہبی اور ثقافتی طور پر پر خطرہ ثابت ہوگی . پالیسی کو اس طرح پرکشش بنا کر پیش کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ بہکاوے میں آ جاتے ہیں کہ پالیسی اچھی ہے، مگر یہ پالیسی سناتن دھرم اور منو وادی ہے انھوں نے کہا اور اس کا استعمال ماضی میں مہاراشٹر میں ہو چکا ہے، اس پالیسی میں کہیں بھی کسی بھی ماہر تعلیم کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، یہ پالیسی پرایویٹازیشن کی طرف لے جاے گی انھوں نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں پچھلی حکومت نے 1300 اسکول بند کرواے تھے، پورے ملک میں 35000 کالج کو تالا لگا دیا گیا اور تقریباً ایک لاکھ اسکول بند کرنے کا انکا ارادہ ہے، یہ پالیسی غریب بچوں کو ابتدائی تعلیم کے بعد SKILLEDUCATION کے نام پر مزدور بناے گی، مادری زبان کو نقصان پہنچانے گی، اور مستقبل میں سرکھشا ودیا پیٹھ کا قیام گجرات میں عمل میں لایا جاے گا.

    ڈاکٹر ظہیر قاضی صدر انجمن اسلام نے اپنے صدارتی خطبے میں اردو کارواں کو طلباء کو شامل کرتے ہوے ویبنار کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوے کہا کہ دراصل ہمیں مسائل کو مواقع می‌ بدلنا ہوگا. اس پالیسی پر مرکز اور صوبائی حکومت دونوں وزیراعظم کے دفتر پر انحصار کرتی ہیں، اس موقع پر انھوں نے مادری زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کی اہمیت پر بھی زور دیا اور یہ بھی کہا کہ زبان کبھی بھی مسئلہ نہیں ہوسکتی، ترقی کے راستے بے پناہ ہیں اور کسی بھی بھی زبان کے ذریعے ترقی حاصل کی جا سکتی ہے اس سلسلے میں انھوں نے کی لوگوں کی مثالیں پیش کیں جنھوں نے اردو زبان میں تعلیم حاصل کی اور آج وہ اہم اداروں میں اہم عہدوں پر فایز ہیں.

    یہ بھی پڑھیں  شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلم نوجوانوں کی ضمانت پر بحث مکمل: گلزا راعظمی
    یہ بھی پڑھیں  ولایت فاؤنڈیشن نے کی کورونا وارئیرس کی حوصلہ افزائی

    انھوں نے کہا کہ گھبرانے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ہم کو اپنا کام پوری ایمانداری اور صداقت سے کرتے رہنا چاہیے جہاں تک اس پالیسی کا تعلق ہے یہ ابھی ہمارے سامنے آی ہے لیکن عمل میں لانے کے لیے ابھی وقت ہے 2030 تک اس کا اطلاق ہو سکتا ہے، انھوں نے ٹیچرس ٹریننگ کی تائید کی ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہمیں تعلیمی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے، تبدیلی فطری چیز ہے، شر میں بھی خیر کے پہلو پوشیدہ ہوتے ہیں، سب کو مل جل کر کام کرنا چاہیے، ہمیں مثبت رہنا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تعلیم و تدریس کو بہتر سے بہترین بنائیں، طلباء سے تبادلہ خیال کریں، ورکشاپ اور سیمینار کریں اور اس میں سب کو شامل کریں اور اپنے بل بوتے پر سنہرا مستقبل حاصل کرنے کی کوشش کریں جو مل جاے اس پر شکر کریں اور نہ ملے تو شکایت نہ کریں.

    اس ویبنار میں اراکین اردو کارواں، مجلس عاملہ اردو کارواں، انجمن اسلام اور دیگر اسکول و کالج کے اساتذہ، طلباء طالبات، ریحانہ احمد چیر پرسن گرلز بورڈ انجمن اسلام، سلمی لوکھنڈ والا ڈائریکٹر انجمن اسلام، اساتذہ ڈی ایڈ کالج امام باڑہ و خلافت ہاوس بایکلہ اور دیگر معزز خواتین و حضرات موجود تھے.
    نظامت اور رسم شکریہ شبانہ خان نے انجام دی.

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    مرکزی وزیر آیوش نے سی سی آر یو ایم کا دورہ کیا اور تحقیقی کاموں کی پذیرائی کی

    نئی دہلی : وزارت آیوش اور وزارت بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی راستوں کے کابینی وزیر جناب سروانند سونوال...

    کرناٹک میں سیلاب سے بے گھر ہوئے لوگوں کو بھی جمعیۃعلماء ہند نے فراہم کیا آشیانہ

    ہندوستان میں اسلام حملہ آوروں سے نہیں مسلم تاجروں کے ذریعہ پہنچا ، ملک میں اقتدارکے لئے ہورہی ہے...

    عام آدمی پارٹی کی حکومت بننے کے 24 گھنٹوں میں یوپی کے عوام کو 300 یونٹ بجلی مفت ملے گی: منیش سسودیا

    لکھنؤ / نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ایک...

    بی جے پی کے دورحکومت میں ملک کی خواتین و بیٹیاں انصاف کے لئے در در بھٹک رہی ہیں

    کانگریس ہیڈ کوارٹر 24 اکبر روڈ پر کانگریس خواتین کے زیر اہتمام منعقدہ یوم خواتین کے موقع پرعمران پرتاپ...

    تبلیغی جماعت کے مرکز ’ نظام الدین‘ کو ہمیشہ کے لئے تو بند نہیں کیا جا سکتا : عدالت

    نئی دہلی : مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال جو تبلیغی جماعت کے...

    بی جے پی اور یوگی حکومت نہ تو آم کی ہے اور نہ ہی رام کی، انہوں نے رام مندر کے چندے میں بھی...

    ایودھیا/نئی دہلی : عام آدمی پارٹی نے منگل کو پارٹی کے سینئر لیڈر اور دہلی کے نائب وزیر اعلی...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you