رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    جمعیۃعلماء ہندکی قانونی مددسے اب تک 66معاملوں میں ماخوذ افرادکی ہوچکی ہیں ضمانتیں

    بے گناہوں کو مکمل انصاف دلانے تک اورگنہگاروں کو کیفرکردارتک پہنچانے کے لئے ہماری قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔مولانا ارشدمدنی

    نئی دہلی : جمعیۃ علماء ہند کی کوششوں سے دہلی فساد میں مبینہ طور پرماخوذ مسلم ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا سلسلہ جاری ہے،آج مزید3 افرادکی ضمانت کی عرضیاں منظور ہوگئیں جو پچھلے ایک سال سے جیل میں تھے۔

    قابل ذکر ہے کہ اب تک نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ سے کل66افرادکی ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں، ضمانت منظور ہونے کے بعد تینوں ملزمین کی جیل سے رہائی عمل میں آچکی ہے، ضمانت پر رہا شدہ ملزمین میں سے ایک ملزم سابق عام آدمی پارٹی کے کارپوریٹر طاہر حسین کا سگا بھائی بھی ہے جس پر استغاثہ نے دہلی فساد بھڑکانے میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے گذشتہ روز دہلی فساد کے معاملے میں گرفتارتین ملزمین لیاقت علی، ریاست علی اور شاہ عالم کو مشروط ضمانت پرر ہا کئے جانے کے احکامات جاری کئے۔ملزم شاہ عالم طاہر حسین کا بھائی ہے۔

    ان ملزمین کو ایف آئی آر نمبر 101/2020 پولس اسٹیشن کھجوری خاص مقدمہ میں ضمانت پر رہائی ملی ہے۔جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ ظہیر الدین بابر چوہان او ر ان کے معاونین وکلاء ایڈوکیٹ دنیش و دیگرنے کی، ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 147,148,149,436, 427 (فسادات برپا کرنا،گھروں کو نقصان پہنچانا،غیر قانونی طور پر اکھٹا ہونا)اور پی ڈی پی پی ایکٹ کی دفعہ 3,4 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

    سماعت کے بعددہلی ہائی کورٹ کی جسٹس مکتا گپتا نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ واقعہ 25 فروری 2020 کو ہوا تھا جبکہ ایف آئی آر 5 مارچ 2020 کو درج کرائی گئی جس سے اسکی حقیقت پر شکوک پیدا ہوتے ہیں اسی طرح گواہان نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ملزمین کو 24 فروری کو طاہر حسین کے گھر کے پاس دیکھا تھا جبکہ واقعہ 25 فروری کا ہے لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ملزمین نے ہی پتھراؤ کیا تھا اور فساد برپا کرنے کی کوشش کی تھی۔

    یہ بھی پڑھیں  بابری مسجد ملکیت معاملہ:قبریں ہونے سے مسجد کی شرعی حیثیت ختم نہیں ہوجاتی

    جسٹس مکتا گپتا نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ ملزمین کو پہلے ہی دوسرے مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے لہذا انہیں مزید جیل میں رکھنا ٹھیک نہیں ہوگا ا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں مزید کہا کہ ملزمین کے خلاف سی سی ٹی وی فوٹیج نہیں ملے اور ان کے خلاف گواہی دینے والے سرکاری گواہوں کے بیانات میں تضاد ہے جس سے اس ان کا بیان مشکو ک لگتاہے۔

    یہ بھی پڑھیں  دردناک سڑک حادثے میں دو عورتوں کی موت, تین افراد شدید طور پر زخمی

    عدالت نے ملزمین کو حکم دیا کہ وہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ان کے خلاف موجودثبوت وشواہد سے چھیڑ چھاڑ نہیں کریں گے اور پولس اسٹیشن اور عدالت میں ضرورت پڑھنے پر حاضر رہیں گے، عدالت نے ملزمین کو موبائل میں آروگیہ سیتو اپلیکشن بھی ڈاؤنلوڈ کرنے کا حکم دیا۔جمعیۃ علماء ہند کے وکلاء کا پینل کل 139 مقدمے دیکھ رہا ہے،امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی دوسرے معاملوں میں بھی پیش رفت ہوگی اور غلط طریقے سے فساد میں ماخوذ کئے گئے باقی ماندہ افراد کی رہائی کا راستہ صاف ہو جائے گا۔

    صدر جمعیۃ علما ہند مولانا سید ارشد مدنی نے دہلی فساد میں مبینہ طور پر ماخوذ ملزمین کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ محض ضمانت پر رہائی جمعیۃ علما ہند کا مقصود نہیں ہے۔بلکہ اس کی کوشش ہے کہ جن بے گناہ لوگوں کو فساد میں جبراً پھنسایا گیا ہے ان کو قانونی طور پر انصاف دلایا جائے۔ اور فساد کے اصل مجرموں اور خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

    یہ بھی پڑھیں  کیجریوال وقت پر نہ پہنچنے سے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کر سکے

    انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علما ہند کے وکلا کی ٹیم اسی نکتہ پر کام کر رہی ہے۔ اور مکمل انصاف دلانے تک ہماری یہ قانونی جدوجہد جاری رہے گی۔مولانا مدنی نے کہا کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور کمیشنوں کی رپورٹوں نے دہلی فساد کی اصل کہانی کا پردہ چاک کردیا ہے کہ دہلی فساد منصوبہ بند تھا اور اس کے پیچھے فرقہ پرست طاقتیں کام کر رہی تھیں۔

    لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ بے گناہوں کو گرفتار کر کے تفتیش کی فائل کو تقریباً بند کردیا گیا، جو لوگ اس فساد میں مسلسل سامنے آتے رہے وہ اب بھی آزاد ہیں اور اسی طرح زہر افشانی بھی کر رہے ہیں، مگر ان کو بے نقاب کرنے اور قانون کے کٹہر ے میں لانے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی جارہی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کے اتحاد اور سالمیت اوراس کی گنگا جمنی تہذیب کے لیے یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ وہ مملکتیں تباہ و برباد ہوجاتی ہیں جو اپنے شہریوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتیں۔ یہ ایک بڑی سچائی ہے اور دنیا کی تاریخ میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں  حکومت کی توجہ زراعت اور دیہی شعبے کی ترقی اور مضبوطی پر مرکوز ہے : نریندر سنگھ تومر
    یہ بھی پڑھیں  مودی سرکار کے خلاف مورچہ بند ہونے کی ضرورت : سونیا

    ملک و قوم کی ترقی کا راز اتحاد ہی میں پوشیدہ ہے، انتشار اور تفریق میں نہیں، اپنے ہی لوگوں کے لیے مذہب اور فرقے کی بنیاد پر امتیاز اور ناانصافی کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ایک بدنما داغ ہیں۔ لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جس منظم اندازمیں فساد برپا کیے جاتے ہیں ٹھیک اسی منظم اندازمیں پہلے ہی سے مجرموں کو بچانے کی بھی تیاری کر لی جاتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ بے گناہوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اصل گنہگار آزاد رہتے ہیں۔ مولانا مدنی نے اخیرمیں کہا کہ بلا شبہ ملک کے حالات مایوس کن اور خطرناک ہیں،لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ امید افزابات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں، زندہ قومیں حالات کے رحم و کرم پر نہیں رہتی ہیں،بلکہ اپنے کردار و عمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں۔ یہ ہمارے امتحان کی سخت گھڑی ہے۔ چنانچہ ہمیں کسی بھی موقع پرصبر و یقین، امید و استقلال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑناچاہیے۔

    کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ہے۔اخیر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ملزمین کو صرف ضمانت نہیں ملی ہے بلکہ ان کی جیل سے رہائی بھی ہوچکی ہے، اب وہ رمضان المبارک کے ایام اپنے گھر پر اہل خانہ کے ساتھ گذار سکیں گے۔ ہماری کوشش ہیکہ جلد از جلد تمام محروسین کی جیل سے رہائی ہوسکے تاکہ وہ اس نازک وقت میں اپنے خاندان کے ساتھ وقت گذار سکیں۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you