رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    محکمہ بجلی سے پریشان نوجوان کی زہر کھاکر خودکشی

    دیوبند، : محکمہ بجلی کے بجلی کے افسران کے استحصال سے علاقہ کے عوام اس قدر پریشان ہیں کہ اس کی ایک مثال دیوبند کے قریبی گائوں میں دیکھنے کو ملی جہاں پر ایک نوجوان نے محکمہ بجلی کے افسران کی جانب سے اس کے والد کی بے عزتی برداشت نہیں ہوسکی اور اس نے افسران کے سامنے ہی زہریلی اشیاء کھاکر خودکشی کرلی جس کے بعد گائوں میں افراتفری مچ گئی اور علاقہ میں محکمہ بجلی کے افسران کے خلاف شدید غم وغصہ پھیل گیا اور انہو ںنے لاش کو مین روڈ پر رکھ کر جام لگاتے ہوئے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ جام کی اطلاع ملتے ہی ضلع کے اعلیٰ افسران مع فورس کے موقع پر پہنچے ۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ محکمہ بجلی کے افسران کے خلاف قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے اور مرنے والے کو معقول معاوضہ دیا جائے ۔ موصولہ اطلاع کے مطابق تھانہ بڑگاؤں کے علاقے گاؤں شملانہ کے ایک کسان کا محکمہ بجلی اور پولیس کی ٹیم نے بجلی کے بقایہ محض 28 ہزار روپیہ جمع نہ کرنے پراس قدر استحصال اور بے عزت کیا کہ کسان مدن کے اکلوتے بیٹے گلاب سنگھ عرف جونی نے زہریلی اشیا کھاکر خودکشی کرلی۔مدن سنگھ پر محکمہ بجلی کے 28؍ ہزا رروپیہ بقایہ تھے اسی بقایہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں بجلی محکمہ کی ٹیم اور پولیس اہلکار آج گاؤں پہنچے اور بقایہ کی ادائیگی کادباؤ بنانے لگے،جس پر کسان نے دو دن کا وقت طلب کیا لیکن پولیس اور بجلی محکمہ کی ٹیم نے کسان کی ایک نہ سنی بلکہ متوفی کے والد مدن کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے،والد کی بے عزتی ہوتی دیکھ کر بیٹے جونی نے زہریلی اشیا کھاکر خود کشی کرلی۔ جس کے بعد مشتعل گاؤںنے لاش کو سڑک پر رکھ کر محکمہ بجلی اور پولیس کے خلاف جم کر نعرہ بازی کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا اور روڈ جام کردیا، مظاہرین کاکہنا تھا کہ جب تک بجلی محکمہ کے ملزم اہلکاروں و افسران اور پولیس والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی اس وقت تک لاش کی آخری رسومات ادا نہیںکی جائیگی۔ واقعہ کی اطلاع اور کسانوں کے غصہ کو دیکھ کر ضلع کے تمام اعلیٰ افسران بڑی تعداد میں پولیس فورس کے ساتھ موقع پر پہنچے اور کسانوں کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگے، اسی دوران کسانوں نے ایس ڈی ایم رامپور منیہاران کو بھی یرغمال بناتے ہوئے اپنے ساتھ بٹھا لیا، کسانوں کاکہناتھاکہ جب تک ملزموںکے خلاف کارروائی نہیںہوگی اس وقت تک جام نہیں کھولا جائے گا اور نہ ہی لاش کی آخری رسومات ادا کی جائے گی۔ لوگوں کا کہنا تھاکہ بجلی محکمہ کے کارکنان، ٹھیکیدار اور پولیس اہلکاروں نے بقایہ کی ادائیگی کے لئے نہ صرف کسانوں پر دباؤ بنایا بلکہ اس کے ساتھ دھکا مکی کرتے ہوئے ان کی خوب بے عزتی کی ،جس کے بعد کسان کے بیٹے جونی نے زہر یلی اشیاء کھاکر اپنی زندگی ختم کرلی ۔ وہیں موقع پر پہنچے اعلیٰ افسرا ن کی گھنٹوں کوششوںکے بعد پانچ لاکھ روپیہ کا معاوضہ دینے کی تحریری یقینی دہانی کے بعد گاؤں والوں نے جام کھولا ،جس کے بعد پولیس نے لاش کو اپنے قبضہ میں لیتے ہوئے پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔

    یہ بھی پڑھیں  حکومت لاکھوں اور کڑروں لوگوں کے جذبات کو نظر انداز نہیں کرسکتی : ڈاکٹر محمد منظو رعالم

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  حکومت لاکھوں اور کڑروں لوگوں کے جذبات کو نظر انداز نہیں کرسکتی : ڈاکٹر محمد منظو رعالم

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you