رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم
  • تبصرہ

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    مزدور بچوں کی زندگی پر ’’ کم سنِ ‘‘دل کو چھوتی ہوئی ایک مختصر کہانی ہے

    تحری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایم ۔ یونسؔ،کمرہٹی
    وہ بچہ تو بہت چھوٹا تھا ۔ بس اس کی اتنی عمر تھی کہ وہ کسی گاہک کو حلواپوری ، جلیبی اور دیگر میٹھائیاں فروخت کر سکے اور ان سے معمولی پیسے کا لین دین بھی کرلے ۔ بچہ کا جسم پر جو لباس تھا ۔ وہ نہایت ہی معمولی تھا۔ غریبی کی وجہ سے اس کے جسم پرمیلے کپڑے کئی کئی دنوں تک یوں ہی پڑے رہتے تھے ۔ جاڑا، گرمی ، برسات چاہے کوئی بھی موسم ہو اُسے علی الصباح اُٹھ جا نا پڑتا تھا ۔میٹھائی بنانے والا باورچی تومنھ اندھیرے سے ہی حلوا پوری اور جلیبیاں تیار کر نے لگتا تھا جیسے ہی کڑاہی میں حلوا تیار ہو جا تا تھا ۔ حلوائی اس بچّے کو چیخ چیخ کر اُٹھا ڈالتا تھا ۔ اگر وہ نیند کی غنو دگی سے اُٹھ نہیں پاتا تو حلوائی اسے گالیاں دیکر اُٹھاتا تھا ۔

    بچّہ کسی طرح آنکھیں ملتا ہوا اُٹھتا۔ اپنی آ نکھوں پر پانی ڈالتا پھر کسی گندی صافی سے اپنا منھ پوچھ کر گرم گرم حلوا کی کڑاہی کے سامنے بیٹھ کر دکانداری کر نے لگتا تھا ، صبح صبح ڈیوٹی پر جا نے والے مزدور اس بچّے سے حلواپوری خرید کر کھاتے ہو ئے اپنے کاموں کی طرف روانہ ہو جا تے تھے ،ٹھنڈے کے موسم میں بھی وہ اسی طرح جسم پر کوئی پتلی سی گرم چادر ڈالے ٹھٹھرا تا ہوا حلواپوری بیچتا ہوا نظر آتا تھا ۔ ایک چھوٹے سے چمچہ سے پتّے کے دونا میں گرم گرم حلوا اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے ڈالتا ۔ ساتھ ہی گرم گرم پوریاں ان نازک اور کومل ہاتھوں سے پکڑ کر کاغذ کے دونا میں رکھتا ۔

    اسے اس بات کا ذرا بھی خوف نہیں تھا ان گرم گرم حلواپوریوں سے اس کے ہاتھ جل جائیں گے۔ کبھی کبھی کئی کئی گرم پوریاں کاغذ کے دونا میں بھرتے ہوئے اُس کے ہاتھ جلنے لگتے تھے ۔ بعض دفعہ جلتی ہو ئی پوری اس کے ہاتھ چھوٹ کر دوبارہ پوری کی ٹوکری میں جا گرِتی تھی۔ اس لمحہ اجب اس کا ہاتھ جلنے لگتا تو وہ پنی جلتی ہو ئی انگلیوںکو تیزی سے ہلاتا جیسے ہی انگلیوں میں لہر کم ہو تی پوری کو دوبارہ کاغذ کے دونا میں ڈال دیتا تھا۔ دن میں گھی میں چھنے ہو ئے بیسن کی بوندیا سے دونوں ہاتھوں سے بیٹھا لڈّو بناتا رہتا تھا ۔ یہ اس کی غریبی و افلاس کی نیم کڑواہٹ تھی جو شاید اس کی قسمت میں مثبت ہو گئی تھی ۔ میری اس کی ملاقات روزانہ فجر کی نماز میں ہو جا یا کرتی تھی ۔ مجھے اس غریب بچے کے حال پر بہت ترس آتا تھا کہ آخر اس کے ماں باپ اس کم عمر میں کیوں اسے مزدوری کر نے کے لئے شہر میں بھیج دیا تھا ۔ابھی تو اس کی عمر اسکول میں تعلیم حاصل کر نے کی تھی ۔ سرکار نے چھ سے چودہ سال کے بچوں کے لئے مفت و لازی تعلیم (Free and Compulsary Education) دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ تو چھوٹے بچوں پر جرم تھا۔میرا جی چاہتا کہ اس بچّے سے اس کے دل کا حال معلوم کروں مگر ایسا موقع کبھی ہاتھ نہیں آیا ۔

    یہ بھی پڑھیں  پورے ملک میں این آرسی : امکانات اور اندیشے
    یہ بھی پڑھیں  پورے ملک میں این آرسی : امکانات اور اندیشے

    ایک دن اتفاق سے وہ بچّہ حلوائی کی دوکان کے کنارے کھڑا صبح صبح سسِکیا ں بھر رہا تھا ۔ میں اسے روتا دیکھ کر آبدیدہ ہو گیا ۔ مجھے کسی کا دکھ دیکھ کر سہا نہیں جا تا ہے ۔ اس بچّے کا مالک (حلوائی ) آج خود ہی حلواپوری ، جلیبیاں اور دیگر میٹھائیاں فروخت کر رہا تھا ۔میں نے حلوائی سے سوال کیا’’ کیا ہوا!؟ آج یہ بچہ کیوں رو رہاہے !؟‘‘ حلوائی نے چمچہ سے حلوا نکالتے ہو ئے جواب دیا ’’ یہ ہر روز بد معاشی کر رہا ہے ، صبح کو اُٹھنا نہیں چاہتا ہے ، گاہکوں کی بھیڑ لگ جا رہی ہے اور یہ سویا ہوا رہتا ہے ، میں نے اس کی آج پٹائی کی ہے اور دکان سے بھگا دیا ہے‘‘ ۔

    یہ بھی پڑھیں  معاشرتی و اخلاقی زوال اور نجات کی راہ

    حلوائی کے اس بے رحمانہ سلوک سے میں تلملا اُٹھا ۔میں بچّے کے پاس گیا ۔ اس سے کہا’’ بیٹا ! تم کیوں رو رہے ہو !؟ ’’ بچے نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ یوں ہی اپنے ہاتھوں سے آنکھوں کو موندے ہوئے سسکیاں بھرتا رہا۔ میرا دل اس بچے پر ہو نے والے ظلم اور قہر جلالت سے پھٹا جا رہا تھا ۔ میں نے حلوائی سے کہا ’’بھائی ! یہ بچہ ہے اس سے غلطی ہو ہی سکتی ہے ، ایسا کر تے ہیں کہ میں اس کو اپنے ساتھ گھر لے جاتا ہو ں ،جب یہ رونا دونا بند کر دے گا تو میں اسے تمہارے پاس پہنچادوں گا ‘‘۔ اس حلوائی نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ اسے تو اپنے کاروبار سے مطلب تھا ۔ اس کا بھی دل اندر سے چاہ رہا تھا کہ کوئی اس بچے کو یہاں سے جلدی لے جا ئے تاکہ گاہکوں کے آگے اس کی کوئی سبکی نہ ہو ۔

    محلّے کے ناطے مجھے حلوائی سے پہچان تھی ۔میں بچیّ کا ہاتھ تھامے ہو ئے اُسے اپنے گھر لایا ۔ اُسے بہت منا کر چُپ کرایا۔ اپنے ہاتھوں سے اس کا منھ دھُلایا ۔ ساتھ میں بیٹھا کرناشتہ کرایا، ناشتے کے بعدجب اسے اطمینان ہوا تو میں نے اس سے پوچھا ’’ بیٹا !تمہارے مالک نے تمہیں کیوں مارا ہے !؟ ‘‘۔ ’’ انکل ! مجھے روزانہ پانچ بجے صبح کو باورچی اُٹھاتا ہے ، دن بھر کے کام سے میں تھکا جایا کر تا ہوں ، صبح صبح میری آنکھیں نہیں کھُلتی ہیں ، کئی دنوں سے میں وقت پر اُٹھ نہیں پا رہا ہوں ،اس لئے حلوائی چچا نے مجھے مارا ہے اور کالر پکڑ کر دوکان سے باہر نکال دیا ہے

    یہ بھی پڑھیں  پورے ملک میں این آرسی : امکانات اور اندیشے
    یہ بھی پڑھیں  معاشرتی و اخلاقی زوال اور نجات کی راہ

    اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ میری ماں کو اس مہینے میں پیسے کم بھیجے گا ‘‘ یہ کہتے ہو ئے بچہ رونے لگا ۔ میں نے اس کے سر پر شفقت بھرے ہاتھ پھیرے اور اسے بہت پیار سے چُپ کرایا ۔ اُس نے مجھے پھر کہا ’’ انکل مجھے مار کھانے کا اتنا دکھ نہیں ہے جتنا دکھ میری ماں کو پیسے کم ملنے کا ہے ، میرے والد نہیں ہیں ، میں یتیم ہو ں ، میری دو چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں ، میں گائوں کے مدرسہ میں پڑھتا تھا ، حلوائی چچا مجھے گائوں سے یہ کہہ کر لائے تھے کہ مجھ سے تھوڑا بہت کام لیں گے ، مجھے گھر میں کسی مولوی سے دینی تعلیم ولوائیں گے اور ماں کو ہر ماہ پیسے بھی بھیجیں گے ، میں یہاں دن بھر کا م کر تے کر تے تھک جا تا ہو ں ، آخر میں بچہّ ہوں اتنا کام نہیں کر پاتا ہوں ، میں کیا کروں انکل اب آپ ہی بتائیں !؟ ‘‘ اس چھوٹے سے بچہ کا درد میرے لئے ایک بہت بڑا سوال تھا ایسا لگتا تھاکہ اس کے دکھو ں کے پہاڑ سے میری گردن جھکی جا رہی تھی

    میرے پاس اس بچے کو جواب دینے کے لئے ہمت نہیں تھی، میں نے اس کے جسم پر بڑے گندے کپڑے اتر وائے ۔ نئے کپڑے میں اسے ملبوس کیا۔ پھر اسے اپنے ساتھ لیکر اس کے وطن کی طرف روانہ ہو گیا ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں اس کے مستقبل کے لئے کیا کر سکتا تھا ۔ پھر بھی میں نے اس کے ماں کے نام اتنی رقم مختص کر دی تا کہ کچھ دنوں میں یہ بچہ تعلیم حاصل کر کے اپنے شعور کی پختگی کو پہنچ جائے ۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  معاشرتی و اخلاقی زوال اور نجات کی راہ

    Latest news

    ہمیں بی جے پی حکومتوں کے جبر کے خلاف ہر محاذ پر لڑنا ہوگا : عمران پرتاپ گڑھی

    آسام: آل انڈیا کانگریس کمیٹی اقلیتی ڈیپارٹمنٹ کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے ایک روزہ دورے پر آسام...

    پرینکا سچی کانگریسی ہیں اور ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والی نہیں : راہل

    نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے لکھیم پور کھیری متاثرہ کنبوں کے ارکان سے ملنے...

    بی جی پی کے دورحکومت میں اقلیتی شعبہ سے تعلق رکھنے والے مسلم،سکھ،عیسائی،جین اور دیگر طبقہ ظلم کا شکار ہو رہا ہے : عمران...

    نئی دہلی : سکھ سماج کے زیر اہتمام دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں ''ایک نئی پہل'' کے عنوان...

    وزیر نے ڈویژنل کمشنر کے دفتر کا معائنہ کیا اور ذات کے سرٹیفکیٹ میں تاخیر پر افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی وارننگ دی...

    سماجی بہبود کے وزیر راجیندر پال گوتم نے اچانک معائنہ کیا اور ذات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں تاخیر...

    کیجریوال حکومت اور بی جی پی حکومت رابعہ سیفی کو اِنصاف دلائے : عمران پرتاپ گھڑی

    مرادآباد : آل انڈیا کانگریس کمیٹی شعبۂ اقلیتی کے قومی صدر عمران پرتاپ گڑھی اپنے دو روزہ دورے کے...

    اقلیتی شعبہ کے قومی صدراور معروف شاعر عمران پرتاپ گڑھی کا شایان شان خیرمقدم

    اہم ذمہ داری ملنے کے بعد پہلی بار مرادآباد آمد پر پھولوں کی بارش،عوام کا اژدہام مرادآباد: کانگریس اقلیتی شعبہ...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you