رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم
  • تبصرہ

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    پورے ملک میں این آرسی : امکانات اور اندیشے

    ڈاکٹر محمد منظور عالم

    Dr. Mohammad Manzoor Alam

    آسام این آرسی کی فائنل اور حتمی فہرست 31؍اگست کو جاری ہوچکی ہے۔ اس فہرست میں 19؍ لاکھ عوام کانام شامل نہیں ہے۔ انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کیلئے اب انہیں مزید تین موقع ملے گا۔سب سے پہلے چار ماہ تک انہیں فورین ٹریبونل میں اپنی شہریت ثابت کرناپڑے گا۔اگر وہاں شہریت ثابت نہیں ہوپاتی ہے تو پھر ہائی کورٹ کا دروازہ کھلاہے۔اگر وہاں سے بھی شہریت ثابت نہیں ہوپاتی ہے تو آخری موقع سپریم کورٹ ہے۔ آسام این آرسی کیلئے کل تین کڑور 30 ؍لاکھ لوگوں نے درخواست دی تھی جس میں تین کڑور گیارہ لاکھ لوگوں کانام شامل ہے۔
    این آرسی آسام کا پرانا مسئلہ ہے۔ 1971 میں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی تھی جس کے بعد آسامی لوگوں کا کہناتھاکہ بہت سارے بنگلہ دیشی آسام آگئے ہیں۔ آسام کی ایک تنظیم آسو نے تحریک چھیڑ دی اور راجیوگاندھی حکومت نے 1986 میں آسام اکارڈ پر معاہدہ کیا۔اس کے بعد انتہاء پسند لیڈورں اور بی جے پی کے رہنماؤں نے اسے ہندومسلم کا مسئلہ بنادیا جبکہ شروع میں یہ آسامی غیر آسامی کا مسئلہ تھا۔ آسامیوں کو اپنی تہذیب اور ثقافت کے ختم ہوجانے کا اندیشہ تھا۔بہر حال کئی سال گزر گئے اور اس پر حکومت نے توجہ نہیں دی۔2014 میں سپریم کورٹ نے اسے اپنی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کیا اور اس طرح تین مرحلوں میں پوری فائنل لسٹ جاری ہوئی۔
    آسام این آرسی کی لسٹ جاری ہونے سے قبل بی جے پی کے قد آور رہنما دعوی کررہے تھے کہ آسام میں ایک کروڑ در انداز ہیں۔ کسی کا کہناتھا کہ وہاں پچاس لاکھ درانداز ہیں۔ ان جملوں کا اشارہ بھی مسلمانوں کی جانب ہوتاتھا۔دوسروں لفظوں میں یہ پیغام دیتے تھے کہ این آر سی جاری ہونے کے بعد آسام کے زیادہ تر مسلمانوں کی شہریت سلب ہوجائے گی وہ غیر ملکی قرار پائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق 19 لاکھ لوگوں میں تقریبا 70 فیصد غیر مسلم ہیں جبکہ تیس فیصد مسلمان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ این آر سی سے قبل بی جے پی لیڈروں کا جو تیور تھا وہ لسٹ ریلیز ہونے کا بعد بدل گیا۔ آسام بی جے پی حکومت اب اسے ماننے سے بھی انکار کررہی ہے۔ حکومت کے کچھ اہم افراد کہہ رہے ہیں کہ ہم سپریم کورٹ لیکر جائیں گے۔ یہ این آرسی منظور نہیں ہے،نیا لائیں گے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ آسو کو بھی این آرسی کی لسٹ سے اتفاق نہیں ہے جس نے اس کی تحریک چلائی تھی۔
    آسام این آرسی پر 1600 ؍کروڑ روپیہ خرچ ہواہے۔ پانچ ہزار ملازمین نے اس میں کام کیا۔اس کے علاوہ تقریبا 1000؍ کروڑ عوام کا خرچ ہواہے لیکن اب بھی یہ ناقص ہے۔ کسی بھی فریق کو منظور نہیں ہے اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ 19؍ لاکھ لوگوں کا کیا ہوگا۔ وہ کہاں جائیں گے۔ خبر آرہی ہے کہ سرکار ڈٹنشن کیمپ بنارہی ہے لیکن ان کیمپوں میں کتنے لوگوں کو رکھا جائے گا ،ان کے اخراجات ملک کی ڈوبٹی معیشت کہاں تک اور کب تک برداشت کرے گی۔ آئین کے مطابق چھ ماہ سے زیادہ ڈیٹنشن کیمپوں میں رکھنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔
    آسام این آرسی مجموعی طور پر کامیاب ثابت نہیں ہوئی ہے۔ سبھی گروپوں کو اس کا اعتراف بھی ہے دوسری طرف بی جے پی حکومت والی ریاستوں کو اپنے صوبے میں این آرسی کرانے کا شوق بھی سوار ہونے لگا ہے۔ ہریانہ ،یوپی سمیت کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی نے اعلان کیاہے کہ ہم اپنے یہاں این آرسی کرائیں گے۔ ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ پورے ملک میں این آرسی کرانے کی بات کررہے ہیں ،ان کا کہناہے کہ دنیا کے ہر ملک میں تمام شہریوں کی تفصیلات لی جاتی ہے پھر ہندوستان میں ایسا کیوں نہیں ہوگا۔ 2021 ؍میں مردم شماری کا اعلان بھی ہوگیا ہے۔دوسری طرف آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے اعلان کیا ہے این آرسی سے ہندؤوں کو گھبرانے کی ضرروت نہیں ہے۔
    امت شاہ کا بیان ،بی جے پی کے ریاستی وزراء کا اعلان اور موہن بھاگوت کا اسٹیٹ منٹ مسلمانوں کو خوف زدہ کرانے ،ڈرانے اور دہشت میں مبتلا کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔این آرسی کے حوالے سے کئی طرح کی افوا ہ بھی مسلمانوں کے بیچ پھیلائی گئی ہے۔ در اصل یہ سرکار مسلمانوں کو ذہنی طور پر تنگ کرنے اور احساس کمتری کا شکار بھی بنانا چاہتی ہے۔خوف اور دہشت کے ماحول سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ ملت ٹائمز کی ایک رپوٹ کے مطابق ہندوستان میں شہریت ایکٹ پہلے سے موجودہ ہے ،کئی مرتبہ اس میں ترمیم بھی ہوئی ہے۔ہندوستان میں قانون کے مطابق 26جنوری 1950کے بعداور یکم جولائی 1987 سے قبل جو بھی پیدا ہوا ہے وہ ہندوستان کا شہری ہے اس کے والدین یا دونوں میں کسی کیلئے بھی ہندوستانی شہریت ضروری نہیں ہے۔1987 کے بعد 2 دسمبر؍ 2004 کے درمیان جو پیدا ہوا ہے اس کی ہندوستانی شہریت اسی وقت معتبر ہوگی جب اس کے والدین میں سے کوئی ایک ہندوستانی شہری ہوگا۔ 2003 ؍کے بعد جن لوگوں کی ہندوستان میں پیدا ئش ہوئی ان کی شہریت کیلئے ضرروی ہے کہ ان کے ماں اور باپ دونوں کے پاس ہندوستانی شہریت ہو۔ اس کے علاو اگر کسی کے والدین میں ایک کی شہریت حاصل ہے اور دوسرا غیر قانونی مہاجر نہیں ہے تو اسے بھی ہندوستان کی شہریت مل جائے گی۔اگر این آرسی ہوتی ہے تو سبھی کیلئے یکساں طور پر این آرسی ہوگی۔سبھی سے شہریت کے ثبوت اور دستاویزات طلب کئے جائیں گے۔ بطور شہری ہمارے پاس سرکار کو مطلو ب آئی ڈی کارڈ ہونا چاہیے۔جن کے پاس ابھی بھی نہیں ہے انہیں بنا لیاچاہیئے ،جن کا نام یا تاریخ پیدائش غلط ہے انہیں بھی اس کی تصحیح کرالینے کی ضرورت ہے۔
    لگے گی آگ تو آئیں گے کئی گھر زد میں
    یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

    یہ بھی پڑھیں  معاشرتی و اخلاقی زوال اور نجات کی راہ

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  مزدور بچوں کی زندگی پر ’’ کم سنِ ‘‘دل کو چھوتی ہوئی ایک مختصر کہانی ہے

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you