رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    بابری مسجد ملکیت مقدمہ :ہندووکلاءکا آستھا کی بنیادپر ہی فیصلہ دینے پر اصرار

    نئی دہلی : بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ معاملہ کی سماعت کا آج 39 واں دن تھا جس کے دوران جمعیة علماءہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث کا جواب دینے سب سے پہلے سینئر ایڈوکیٹ پراسرن نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے لئے تاریخ درست کرنے کا وقت آگیا ہے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ بابر کی جانب سے کی گئی غلطی کو درست کرکے ملک کے ہندوﺅں کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بابر ایک حملہ آور تھا جس نے ہندوستان پر قبضہ کیاتھا اور مندر کومہندم کرکے بابری مسجد کی تعمیر کی تھی ۔

    مسلم فریقوں کی جانب سے حق ملکیت کے سوٹ نمر4 پر مہنت سریش داس نامی شخص کی جانب سے بحث کرتے ہوئے ایڈوکیٹ پراسرن نے عدالت کو بتایا کہ مسلمان کسی بھی مسجد میں نمازپڑھ سکتے ہیں لیکن ہندوﺅں کے لئے ایودھیا رام کا جنم استھان ہے اور ان کی اس جگہ سے آستھا جڑی ہوئی ہے ، پراسرن کے اس بیان پر ڈاکٹر راجیو دھو ن نے کہا کہ ایودھیا میں بھی درجنوں مندریں ہیںجہاں ہندو عبادت کرسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ عدالت میں حق ملکیت کا معاملہ ہے جسے ثبوت و شواہد کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہئے نہ کہ آستھا پر،نہ کہ بابر نے کیا کیا تھااس کی بنیادپر ۔دھون نے عدالت کو بتایا کہ آج عدالت یہ فیصلہ نہیں کرنے جارہی ہے کہ بابر نے کیسے ہندوستان پر حکومت کی اور اسے ہندوستان میں آنے کا حق تھا یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ڈاکٹر راجیو دھون کی دخل اندازی پر رام للا کے وکیل سی کے ویدیا ناتھن نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور عدالت سے کہا کہ ایسے بحث نہیں کی جاسکتی کیونکہ اگر دھون بیچ بیچ میں ٹوک تے رہیں گے تو وہ یکسوئی سے بحث نہیں کرسکتے جس پر ڈاکٹر دھون نے کہا کہ اگر وہ عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے تووہ عدالت کی توجہ دلاتے رہیں گے۔

    ڈاکٹر دھون اور ودیا ناتھن کے درمیان جب تکرار زیادہ بڑھنے لگی تو چیف جسٹس آف انڈیا نے مداخلت کرتے ہوئے ویدیاناتھن کو کہاکہ جب ڈاکٹر دھون بحث کررہے تھے توآپ لوگ بھی انہیں درمیان میں ٹوک رہے تھے اور دوران بحث ایسا ہوتا ہے ۔ اس معاملہ کی سماعت کرنے والی آئینی بینچ جس میں چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی، جسٹس اے ایس بوبڑے، جسٹس چندرچوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس عبدالنظیرشامل ہیں کو ایڈوکیٹ پراسرن نے بتایا کہ مسجد کی تعمیر غیر قانونی طریقہ سے کی گئی تھی نیز سوٹ نمبر چار مقررہ وقت کے اندر داخل نہیں کیا گیا تھا ۔ایڈوکیٹ پراسرن کی بحث کے دوران جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ کیا آپ ڈاکٹر دھون کی اس دلیل سے متفق ہیں کہ ایک بار مسجد بن جانے کے بعد وہ ہمیشہ مسجد ہی رہے گی ؟ پراسرن نے کہا کہ وہ ڈاکٹر دھون کے دعوے کوقبول نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کا دعوی ہے کہ ایک بار مندر بن جانے کے بعدوہ مندر ہی رہے گا ۔

    یہ بھی پڑھیں  آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے مفتی محمد ابوذرکنوینر اور الحاج سید اصغر عرشی معاون کنوینر نا مزد
    یہ بھی پڑھیں  ‎بنگال میں’’خودکفیل بھارت ‘‘ مہم کی قیادت کرنے کی بھر پور صلاحیت ہے:مودی

    آج جسٹس چندر چوڑ، جسٹس بوبڑے اور دیگر ججوں نے ایڈوکیٹ پراسرن سے کئی ایک سوالات پوچھے، اسی درمیان چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے ایڈوکیٹ ڈاکٹردھون سے پوچھا کہ کیا آپ خوش ہیں کہ آج بینچ پراسرن سے بھی سوالات پوچھ رہی ہے کیونکہ کل آپ نے کہا کہ تھا کہ جج صرف آپ ہی سے سوالات کرتے ہیں۔ایڈوکیٹ پراسرن نے اپنی بحث کوآگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سنی وقف بورڈ مغل اور برٹش کی جانب سے مسجد کو دی جانے والی گرانٹ اور مسجد کی منظوری کو لیکر آج حق ملکیت کا دعوی نہیں کرسکتا کیونکہ حملہ آوروں کی جانب سے دی جانے والی گرانٹ غیر قانونی ہے ، انہوں مزید کہا کہ بابری مسجد ایک ریگولر مسجد تھی جبکہ رام جنم بھومی ہندوﺅں کے لئے خصوصی مقام رکھتی ہے ۔پراسرن نے آگے کہا کہ ہندووں نے بھارت سے باہر جاکر کسی کو لوٹایا تباہ نہیں کیا بلکہ باہر سے آکر لوگوں نے بھارت میں تباہی مچائی کیونکہ ہمارا رویہ تو ”مہمان دیوتاہوتاہے“والا ہے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تاریخ میں جو بھول ہوئی اسے درست کرنے کا وقت ہے کسی حملہ آورکو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کے وہ ہندستانی تاریخ کے وقارکو مجروح کرے انہوں نے مزید کہا کہ متولی کو صرف انتظامی امور کی ذمہ داری ہوتی ہے اس کو حق ملکیت نہیں دی جاسکتی ہے نیز عبادت کرنے والوں کو بھی حق ملکیت نہیں دی جاسکتی ہے ۔

    یہ بھی پڑھیں  بزرگوں کو کرتارپور کے مفت درشن کرائے گی کجریوال سرکار

    اسی درمیان ڈاکٹر دھون نے درمیان میں اٹھ کر عدالت کو بتایا کہ وقف کو قانونی درجہ حاصل تھا اور مسجد کو منظوری حاصل تھی لہذا ملکیت کا حق مسلمانوں کا بنتا ہے حالانکہ وقف کی ہوئی زمین اللہ کی ہوجاتی ہے۔اس پر پراسرن نے کہا کہ مسلمانوں کو حق ملکیت حکومت سے مانگنا چاہئے لیکن انہوں نے ہندوﺅں کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہے، سوٹ نمبر4 میں نیز یہ مسلمانوں کو ثابت کرنا ہوگا کہ متنازعہ اراضی پر ملکیت کا ان کا حق ہے نیز مسلمانوں کی جانب سے الہ آباد ہائی کورٹ میں داخل کئے گئے

    تراجم اور سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے تراجم میں فرق ہے۔اسی درمیان ایڈوکیٹ پراسرن کی بحث کا اختتام عمل میں آیا حالانکہ وہ مزید وقت چاہ رہے تھے لیکن چیف جسٹس نے انہیں منع کردیا جس کے بعد رام للا کے وکیل سی ایس ویدیاناتھن نے بحث شروع کی اور عدالت کو بتایا کہ حق ملکیت کا حق Deity یعنی کہ مورتی کو جاتا ہے کیونکہ مسلم فریقوں کی جانب سے داخل کردہ سوٹ میں اس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ وہ سالوں سے اس مقام پر نماز ادا کرتے رہے ہیں لہذا انہیں حق ملکیت ملنا چاہئے نیز بابر نے مسجد کی تعمیرکی تھی اور اسے گرانٹ دیتا تھا یہ عدالت میں ثابت نہیں ہوسکا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں  بھارتیہ جنتا پارٹی کا خواتین مخالف چہرہ ایک بار پھر ملک کے عوام کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے: آتشی

    اس پر جمعیةعلماءہند کے وکیل ڈاکٹرراجیودھون اور ویدیاناتھن کے درمیان ایک بارپھر تیکھی نوک جھوک شروع ہوگئی ، ویدیاناتھن نے کہا کہ میں کوئی مداخلت برداشت نہیں کروںگا اس پر ڈاکٹر دھون نے جواب دیا کہ آپ مجھے موردالزام نہ ٹھہرائیں اور خاموش ہوجائیں ،آج ویدیاناتھن کی بحث نامکمل رہی حالانکہ عدالت نے انہیں سوا پانچ بجے تک بحث ختم کرنے کا حکم دیا تھا، ویدیاناتھن کی درخواست پر عدالت نے انہیں کل مزید 45منٹ کی بحث کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ دیگر چار ہندو فریقوں کو 45/45 منٹ بحث کرنے کی اجازت دی ہے جبکہ مسلم فریقین کی نمائندگی کرنے والے جمعیة علماءہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون کو سب کا جواب دینے کے لیئے ایک گھنٹے کا وقت دیا ہے اور عدالت تمام فریقین کی بحث کے بعد آئین ہند کی دفعہ 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات پر فریقین سے گفتگو کریگی ۔

    یہ بھی پڑھیں  آلٹ بالاجی کی سیریز ’دی ورڈكٹ - اسٹیٹ ورسس ناناوتی‘ کے لئے پرانی ممبئی کو کیا گیا ریکریٹ

    آج چیف جسٹس نے اشارہ دے دیا ہیکہ وہ معاملے کی سماعت کل ہی ختم کرسکتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ صدرجمعیةعلماءہند مولانا سید ارشدمدنی نے 30ستمبر2010کے فیصلہ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس وقت کہاتھا کہ بابری مسجدکا فیصلہ الہ آبادہائی کورٹ کی لکھنوبینچ نے جس بنیادپر کیا ہے اس سے ہماری متحدہ قومیت ، مشترکہ تہذیب ،ہمارے ملک کے سیکولراور جمہوری روایت مجروح اور پامال ہوئے بغیر نہیں رہ سکیںگی اس لئے یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے ہر اس فرداورجماعت کامسئلہ ہے جو ہندستانی کے سیکولر کردار اور اس کی جمہوریت پریقین رکھتاہے ، دینی شعائر کی عظمت اوحرمت کے تحفظ اور بقاءکی کوشش مسلمانوں کا فریضہ ہے ، جس کی وجہ سے جمعیةعلماہند نے 15نومبر2010 کو عدالت عظمی میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنچ کرتے ہوئے عرضی داخل کردی تھی ، یہ سپریم کورٹ میں سب سے پہلی اپیل تھی

    9مئی 2011کو سپریم کورٹ میں پہلی سماعت ہوئی تب سے آج تک سپریم کورٹ میں 91 سنوائی ہوئی ہے الحمد للہ ہر پیشی پر جمعیةعلماءہند کی سینئر وکلاءکی ٹیم نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے مدلل بحث کئے ۔آج دوران کارروائی عدالت میں ڈاکٹر راجیو دھون کی معاونت کے لیئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجازمقبول، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قراة العین، ایڈوکیٹ شاہد ندیم،ایڈوکیٹ گوتم پربھاکر، ایڈوکیٹ کنور ادیتیا، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ واصف رحمن خان و دیگر موجود تھے۔

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here
    یہ بھی پڑھیں  دہلی حکومت تعمیراتی کارکنوں کے مفادات کے لئے ہمیشہ پرعزم ہے : نائب وزیر اعلی منیش سسودیا

    Latest news

    میرٹ کی بنیادپر منتخب ہونے والے 670طلباء میں ہندوطلباء بھی شامل

    تعلیمی سال 2021-2022کے لئے جمعیۃعلماء ہند کے وظائف جاری ، مذہب سے اوپر اٹھ کر کام کرنا تو جمعیۃعلماء...

    آدیش گپتا نے اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر ایم سی ڈی کی زمین پر اپنا سیاسی دفتر بنایا: درگیش پاٹھک

    نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے ایم سی ڈی انچارج درگیش پاٹھک نے کہا کہ بی جے پی...

    مغربی يو پی : راشٹریہ لوک دل اور سماج وادی پارٹی اتحاد کتنا مضبوط ؟

    مغربی یوپی : مظفر نگر فسادات کے بعد مغربی یوپی میں بالخصوص پوری ریاست میں بالعموم فرقہ واریت اور...

    صوبائی کنونشن میں رئیس الدین رانا کو ”حفیظ میرٹھی ایوارڈ“ ملنے پر ایسوسی ایشن نے کیا استقبال

    مظفر نگر : اردو ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن مظفر نگر کے عہدیداران نے آج صوبائی نائب صدر رئیس الدین...

    اسمبلی الیکشن : سوشل میڈیا کے چاروں پلیٹ فارموں پر سرگرم

    لکھنؤ : ملک کی سیاسی سمت کو طے کرنے والے صوبے اترپردیش میں کورونا بحران کے درمیان ہورہے اسمبلی...

    میرے والد اعظم خان کی جان کو خطرہ : عبد اللہ اعظم

    عبد اللہ اعظم نے کہا کہ کورونا پروٹوکول کے نام پر لوگوں کا استحصال کیا جا رہا ہے، گھر...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you