رازداری پالیسی

ہمارے بارے میں

رابطہ

  • قومی نیوز
  • ہوم

    Hindi

    Epaper Urdu

    YouTube

    Facebook

    Twitter

    Mobile App

    سی بی آئی عدالت کے فیصلہ سے عقل حیران ہے کہ پھر مجرم کون؟

    صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے بابری مسجد ملزمین کے تعلق سے دیے گئے فیصلہ پر اظہار حیرت کیا

    نئی دہلی : سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 6/ دسمبر 1992/ کو بابری مسجد شہید کرنے والے تمام ملزمین کو باعزت بری کردیا ہے جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ دن کی روشنی میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا،دنیا نے دیکھا کہ کن لوگوں نے اللہ کے گھر کی بے حرمتی کی اورزمیں بوس کردیا۔دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ کن لوگوں کی سرپرستی میں مسجد شہید ہوئی اور کون لوگ یوپی کے اقتدار اعلیٰ پرفائز تھے باوجود اس کے سی بی آئی نے جو فیصلہ سنایا وہ حیران کرنے والا ہے۔

    صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا مدنی نے کہا کہ9/ نومبر 2019/ کو سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ نے بابری مسجد۔رام جنم بھومی حق ملکیت پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے یہ اعتراف کیا تھا کہ بابری مسجد کی تعمیر کسی مندر کو توڑ کر نہیں کی گئی تھی چنانچہ بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنے اور پھر اسے توڑنے کو مجرمانہ عمل قرار دیا تھااور یہ بھی کہا تھا کہ جن لوگوں کی شہ پر یہ کام انجام دیا گیا وہ بھی مجرم ہیں پھر سوال یہ ہے کہ جب بابری مسجد شہید کی گئی اور شہید کرنے والے مجرم ہیں تو پھر سی بی آئی کی نظر میں سب بے گناہ کیسے ہو گئے؟یہ انصاف ہے یا انصاف کا خون ہے؟ مولانا مدنی نے کہا کہ مسجدکن لوگوں کی سرپرستی میں توڑی گئی اور جنہوں نے مسجد کے توڑنے کو اپنی سیاست اور اقتدار کی بلندی کا سبب سمجھا تھا

    یہ بھی پڑھیں  مودی سرکار نے ملک کے لوگوں کی مشکل سے کمائی جانے والی آمدنی سے اخبارات میں انگریزی میں اشتہار دے کر اپنا چہرہ روشن کر رہی ہے : راگھو چڈھا
    یہ بھی پڑھیں  مودی سرکار نے ملک کے لوگوں کی مشکل سے کمائی جانے والی آمدنی سے اخبارات میں انگریزی میں اشتہار دے کر اپنا چہرہ روشن کر رہی ہے : راگھو چڈھا

    وہ باعزت بری کردیئے گئے،اگرچہ وہ لوگ بی جے پی ہی کے دور اقتدار میں سیاسی اعتبار سے بے حیثیت اور بے نام ونشان ہو گئے جو اللہ کی بے آواز لاٹھی کی مار ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ سی بی آئی کورٹ یہ کہہ رہی ہے کہ ان کا کوئی قصور نہیں ہے اور یہ باعزت بری کئے جاتے ہیں۔عقل حیران ہے کہ اس کو کس چیز سے تعبیر کیا جائے۔اس فیصلہ کو کس نظریہ سے دیکھا جائے۔ کیا اس فیصلہ سے عوام کا عدالت پر اعتماد بحال رہ سکے گا؟

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here

    Latest news

    دہلی حکومت اپنے ملازمین کو پیشہ وار خصوصی فیسٹیول پیکیج کے تحت ہر ملازم کو 10 ہزار روپے دے گی: منیش سسودیا

    نئی دہلی : دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے ماتحت محکمہ خزانہ نے دہلی کے سرکاری...

    ‎بنگال میں’’خودکفیل بھارت ‘‘ مہم کی قیادت کرنے کی بھر پور صلاحیت ہے:مودی

    کولکاتہ :اس دلیل کے ساتھ کہ مغربی بنگال میں ’’خود کفیل بھارت‘‘ کی مہم کی قیادت کرنے کی بھر...

    دہلی کی تمام 70 اسمبلیوں میں 26 اکتوبر سے چلے گی ‘ریڈ لائٹ آن ، گاڈی آف’ کی مہا مہم : گوپال رائے

    نئی دہلی : وزیر ماحولیات گوپال رائے اور دہلی کے تمام اراکین اسمبلی نے آج تلک مارگ پر ریڈ...

    ایسے پس منظر سے آنے والے طلبا کی کامیابی سے بہت سارے طلبا بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے: اروند کیجریوال

    نئی دہلی : وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے دہلی کے سرکاری اسکولوں کے...

    دہلی حج کمیٹی کے ای او جاوید عالم خان سے مرکزی حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر محمد عرفان احمد کی خصوصی ملاقات

    دہلی : عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب امسال حج کا فریضہ انجام نہیں ہو پایا تھا، مگرحج:2021 کے لیےتیاریوں...

    کارکنوں کی فلاح و بہبود میں کوئی رواداری نہیں: منیش سسودیا

    نئی دہلی : نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے تعمیراتی کارکنوں کو جنگی بنیادوں پر اندراج کرنے کی مہم...

    Must read

    You might also likeRELATED
    Recommended to you